.

''جناب وزیراعظم! وقت ہو چکا، منہ بند کردیں''

بی بی سی کے انٹرویو نگار نے پروگرام میں ڈیوڈ کیمرون کو شٹ اپ کہہ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آزادیِ اظہار کا کیا زمانہ آگیا ہے کہ ٹی وی اینکر دنیا کے ایک بڑے ملک کے وزیراعظم کو بھی خاطر میں نہیں لاتے اور انھیں براہ راست نشریات میں منہ بند کرنے کا کہہ دیتے ہیں۔

جی ہاں! یہ معاملہ کسی اور کے ساتھ نہیں،تقریر کی آزادی کے بڑے مؤید برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ بی بی سی کے ایک پروگرام کے دوران پیش آیا ہے۔وہ یقیناً یہ توقع تو نہیں کرتے ہوں گے کہ انھیں اس طرح درشت لہجے کے ساتھ انٹرویو کے دوران روک دیا جائے گا۔

ڈیوڈ کیمرون اتوار کو بی بی سی کے اینڈریو مر کے شو میں نمودار ہوئے تھے اور وہ نائیجیریا میں اسکول کی طالبات کے اغوا کے واقعہ پر گفتگو کررہے تھے۔اس دوران پروگرام کا وقت قریب آپہنچا اور میزبان نے انھیں سختی سے بات ختم کرنے کے لیے کہا۔

یوٹیوب پران لمحات کی ویڈیو پوسٹ کردی گئی ہے۔اس میں مسٹر مر کہہ رہے ہیں:''میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیراعظم شٹ اپ ۔میں خوف زدہ ہوں۔ مجھے واقعی ۔واقعی افسوس ہے،ہمارا وقت ختم ہوا جارہا ہے''۔

میزبان صاحب اس انداز میں وزیراعظم کو بات کرنے سے روکنے میں تو کامیاب ہو گئے اور جواب میں انھوں نے گفتگو جاری رکھنے پر مر سے معذرت بھی کی ہے۔

برطانوی اخبار مرر نے لکھا ہے کہ وزیراعظم نے تو شاید ان الفاظ کا نوٹس نہیں لیا لیکن اس پروگرام میں شریک ایک اور مہمان سی این این کی بین الاقوامی نمائندہ کرسٹین امان پور نے اس کا نوٹس لیا اور جب مسٹر مر پروگرام کو ختم کررہے تھے تو کیمرے میں امان پور کو ان کے کلمات پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

ان کی یہ ویڈیو اتوار کو یو ٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی تھی۔ اس کے بعد سے منگل تک اس کو اٹھاون ہزار افراد دیکھ چکے تھے۔ یو ٹیوب پر اس ویڈیو پر تبصرے کرنے والوں میں سے ایک نے لکھا:''اگر یہ واقعہ کسی عرب ریاست میں رونما ہوا ہوتا تو انٹرویور کو حکومت قرار واقعی سزا بھی سنا چکی ہوتی''۔