.

شیر کو نہلانے کی تگ دو، سیدھا سیدھا جوا ہے

یمن کا شہری بھی شیر کی صفائی کیلیے پریشان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایک پالتو شیر کو نہلانے اور صفائی ستھرائی کی طرف مائل کرنے والے شخص کو کس قدر شور اور تگ و دو کرنا پڑ رہی ہے اس سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ شیر مشرق کا ہو یا مغرب، جنگلی ہو یا پالتو حد یہ کہ سیاسی بھی ہو تو اسے اپنی آلائشوں سے نجات پانا کتنا ناگوار گذرتا ہے۔ اسی وجہ سے ضرب المثل زبان زد عام ہے کہ شیروں کے منہ دھوئے ہوئے ہوتے ہیں۔

یمن جنگلی حیات کی پرورش اور خرید و فروخت کے حوالے سے ایک اہم ملک سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سے جانوروں کی اس سمگلنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے خصوصا اڑوس پڑوس کے مالدار ملکوں کے شہزادوں اور حکمرانوں کے ذوق کی تکمیل اسی یمن میں پرورش پانے والی جنگلی حیات سے ہوتی ہے۔

برطانیہ کے معروف اخبار "دی گارڈیئن" کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق آجکل شیر کے ایک بچے کی قیمت 13000 امریکی ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے۔ یہ قیمت سعودی ریالوں میں پچاس ہزار ریال سے زائد تک چلی جاتی ہے۔ جانوروں کی خرید و فروخت یمن کے غریب لوگوں کی گذر بسر کا بھی اہم ذریعہ بن جاتی ہے۔

شیروں کی سمگلنگ کے ساتھ ساتھ چیتے، ہرن، لگڑ بگڑ اور بندر بھی یمن کے جنگلوں سے دوسرے ملکوں تک لے جائے جاتے ہیں۔ انہی میں سے امکانی طور پر ایک یمنی کے لیے ذریعہ معاش بننے والے اس پالتو شیر کو نہلانے کا یہ منظر ہے کہ شیر کو سدھانے اور اس کی خدمت پر مامور شخص کس قدر جتن کر رہا ہے تاکہ ''شیر صاحب'' غسل فرما لیں اور اپنی آلائشوں سے نجات پا لیں۔ لیکن شیر ہے کہ اپنی روائتی عادت اور روش سے ہٹنے والا نہیں ہے۔

شیر کو پال پوس کر اس مقام تک پہنچانے والا کہ شیر اس لائق ہو کہ اس کیلیے بھی مفید بنے، غالباً اسی مقصد کیلیے پانی سے بھرے پرانے پینٹ بکس سے اپنے سوتے رہنے کے عادی شیر کو غسل دنیے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ کوشش اس شخص کیلیے جوئے سے کم نہیں ہے، رسک ہی رسک ہے۔

شیر کا خیال رکھنے والا یہ شخص اس خوب پلے ہوئے شیر کو ویڈیو میں کنٹرول کرنے کی کوشش میں ہے اور اسے اس کے کچھار نما پنجرے میں جا کر نہلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے گاہے گاہے شیر ناراض بھی ہو جاتا ہے۔ جبکہ نہلائی کرانے کیلیے جتن کرنے والے شخص کو اس دوران شور بھی کرنا پڑتا ہے تا کہ شیر سمجھ جائے.

ایسا منظر جو اس ویڈیو میں دیکھنے کو ملا ہے یہ برسوں بعد ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس لیے آپ بھی دیکھیے یہ سیاسی شیر کو رام کرنے کی کوشش نہیں بلکہ ایک اصلی شیر کو نہلانے کی کوشش ہے۔