دنیا میں یہودیوں سے متعلق منفی سوچ میں اضافہ

100 ملکوں میں کیے گیے سروے میں ایک چوتھائی افراد کی رائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکا میں یہودیوں کے بارے میں نسلی امتیاز کے خلاف سرگرم ایک ادارے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا کے ایک سو ملکوں کے ایک چوتھائی افراد یہودیوں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جرمن نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے مبینہ قتل عام 70 برس گذر گئے مگر آج بھی بڑی تعداد میں لوگ یہودیوں کے اس دعوے کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم یہودی ہولوکاسٹ کی آڑ میں خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے بارے میں منفی سوچ میں کمی نہیں آئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکا میں یہودیوں کے خلاف منفی سوچ ختم کرنے کے لیے سرگرم انسداد ہتک عزت لیگ نے حال ہی میں دنیا کے ایک ملکوں میں ایک سروے کرایا، جس میں یہودیوں کے بارے میں عام شہریوں سے رائے لی گئی۔ رائے عامہ کے اس عالمی جائزے کے بعد مرتب کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے 100 ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک چوتھائی رائے دہندگان نے یہودیوں کے بارے میں منفی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ سروے جائزے میں ایک سو سے زائد ملکوں کے 97 زبانیں بولنے والے افراد کی آراء حاصل کی گئی تھیں، یوں اپنی نوعیت کا یہودیوں کے بارے میں یہ سب سے بڑا رائے عامہ کا جائزہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عرب ممالک کے رائے دہندگان اسرائیل کے بارے میں منفی سوچ میں سب سے آگے ہیں۔ عرب ممالک سے آنے والی آراء میں 74 فی صد رائے دہندگان نے اسرائیل اور یہودیوں کے بارے میں منفی رد عمل کا اظہار کیا۔ ایران میں یہودیوں کی مخالفت کا رحجان عرب ممالک سے نسبتا کم ہے جہاں 56 فی صد رائے دہندگان نے یہودیوں کے بارے میں منفی سوچ کا اظہار کیا۔ روس اور مشرقی یورپ کے 34 فی صد، مغربی یورپ میں 24 فی صد اور امریکا میں 09 فی صد رائے دہندگان نے یہودیوں کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی۔

انسداد ہتک عزت لیگ کی ڈائریکٹر تعلقات عامہ اسٹاسی بیرڈٹ کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ملکوں سے یہودیوں کے بارے میں جو منفی سوچ سامنے آئی ہے وہ نہایت تشویشناک ہے۔ دنیا بھر میں تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ یہودیوں کے بارے میں تعصب میں کمی آ رہی ہے لیکن مشرق وسطیٰ میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہودیوں کے بارے میں منفی سوچ کے پس پردہ تعلیمی نظام اور ذرائع ابلاغ کا اہم کرادار ہے۔ سروے رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ ابلاغی سوچ اور تعلیمی نظام میں تبدیلی سے یہود مخالف سوچ کو کم کیا جا سکتا ہے۔

سروے جائزے میں رائے دہندگان سے کہا گیا کہ وہ یہودیوں کے بارے میں ایک جملہ تحریر کریں۔ اوسطا گیارہ میں سے چھ جملوں میں یہودیوں کے بارے میں منفی سوچ ظاہر کی گئی۔ رائے دہندگان کی جانب سے کچھ اس طرح کے جملے سامنے آئے"دنیا میں یہودی جنگوں کا باعث ہیں۔ یہودی عالمی مارکیٹ اور میڈیا پر تسلط قائم کیے ہوئے ہیں، یہودی اپنے ممالک سے زیادہ اسرائیل کے وفادار ہیں"، وغیرہ وغیرہ۔ یورپی ممالک میں ہالینڈ واحد ملک ہے جہاں سے آنے والی آراء میں اسرائیل اور یہودیوں کے بارے میں الگ الگ خیالات ظاہر کیے گئے۔ ہالینڈ کے پچاس فی صد رائے دہندگان نے اسرائیل کے بارے میں منفی خیالات کا اظہار کیا جبکہ یہودیوں کے بارے میں منفی سوچ رکھنے والوں کی تعداد صرف پانچ فی صد رہی۔

رپورٹ کے مطابق یہودیوں کے بارے میں منفی خیالات کا سب سے زیادہ اظہار مسلمان ممالک کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ ایشیائی مسلمان اور مغربی یورپ کے مسلمانوں کی طرف سے یہودیوں کے بارے میں اتنی نفرت کا اظہار نہیں کیا گیا جتنا کہ مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کی جانب سے دیکھا گیا۔

ملکوں کی سطح پر امریکا میں مذہبی بنیاد پر سب سے زیادہ نفرت یہودیوں اور اس کے بعد دوسرے نمبر مسلمانوں کے خلاف پائی جاتی ہے۔ سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 35 فی صد رائے دہندگان "ہولوکاسٹ" کو ایک حقیقت سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جرمنی کے نازیوں کے ہاتھوں پہلی جنگی عظیم میں لاکھوں یہودیوں کا قتل عام کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں