جارج کلونی اور امل کی شادی کی تاریخ مقرر،تیاریوں کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ہالی وڈ کے معروف اداکار جارج کلونی کی لبنانی نژاد برطانوی وکیل امل علم الدین کے ساتھ شادی کی تاریخ طے پا گئی ہے اور دونوں 12 ستمبر کو رشتہ ازواج میں بندھ جائیں گے۔

باون سالہ جارج کلونی اور ان کی چھتیس سالہ منگیتر امل علم الدین گذشتہ سات ماہ سے میل ملاقاتیں کررہے تھے اور ان کے درمیان راہ ورسم بڑھنے کے بعد گذشتہ ماہ ان کی منگنی کی خبر منظرعام پر آئی تھی۔ہیلو میگزین کی ایک رپورٹ کے مطابق ان میں گذشتہ سال اکتوبر میں سلسلہ جنبانی شروع ہوا تھا اور اس طرح قریباً ایک سال کے بعد ان کی شادی ہوجائے گی۔

کلونی ماضی میں کئی دوشیزاؤں، اداکاراؤں اور ماڈلز کی زلفوں کے اسیر رہے ہیں لیکن انھوں نے ان میں سے کسی کو ہمیشہ کے لیے اپنا ساتھی نہیں بنایا تھا اور کسی کے ساتھ بھی عشقیہ تعلقات کی شادی تک منتج ہونے کی نوبت نہیں آئی تھی۔

لیکن اب لبنانی نژاد برطانوی دوشیزہ سے ان کے تعلقات شادی تک پہنچنے جارہے ہیں۔ان دونوں کو گذشتہ ماہ لاس اینجلس کے ایک ریستوراں میں رات کے کھانے پر اکٹھے دیکھا گیا تھا۔اس موقع پر امل نے ایک انگوٹھی پہن رکھی تھی جس کے بارے میں خِیال کیا جاتا ہے کہ وہ منگنی کی تھِی۔کھانے پر ان کے ساتھ سپر ماڈل سینڈی کرافورڈ بھی اپنے خاوند کے ساتھ موجود تھیں۔یہ دونوں جارج کلونی کے دیرینہ دوست ہیں۔

امل علم الدین انسانی حقوق کی علمبردار ہیں اور برطانیہ میں وکالت کرتی ہیں۔وہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور فوجداری قانون میں تخصص رکھتی ہیں۔جارج کلونی خود بھی انسانی حقوق سے متعلق ایشوز میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور انھوں نے سوڈان کے مغربی علاقے دارفور میں انسانی بحران کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ان دونوں کو گذشتہ سال اکتوبر میں پہلی مرتبہ لندن میں اکٹھے دیکھا گیا تھا۔اس کے بعد سے وہ نیویارک ،تنزانیہ اور سیچلز آئی لینڈز کے مشترکہ دورے کرچکے ہیں۔امل اس وقت وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی برطانیہ سے سویڈن بے دخلی کے کیس میں پیروی کررہی ہیں۔اسانج سویڈن کو دو خواتین پر مجرمانہ حملے کے الزام میں مطلوب ہیں۔امل اس سے پہلے اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی بھی مشیر رہ چکی ہیں۔

جارج کلونی کی مستقبل میں ہونے والی ساس باریا مکناس علم الدین معروف صحافیہ ہیں اور وہ دنیا بھر کی معروف شخصیات اور سرکردہ لیڈروں کے انٹرویوز کر چکی ہیں۔ان کے شاہی خاندانوں سے لے کر پاکستان سے برسلز تک لیڈروں سے ذاتی روابط رہے ہیں۔ وہ لبنان کے دوسرے بڑے شہر طرابلس میں پلی بڑھی تھیں۔انھوں نے دارالحکومت بیروت سے صحافت میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی اور 1980ء کے عشرے کے اوائل میں لبنان میں خانہ جنگی کے زمانے میں وہ اپنے خاوند کے ساتھ برطانیہ منتقل ہوگئی تھیں۔ان کی امل کے علاوہ ایک اور بیٹی طلا ہے۔ان دونوں کی انھوں نے لندن ہی میں پرورش کی اور انھیں اعلیٰ تعلیم دلوائی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں