ہٹلر اور مفتی القدس کا امریکا میں 'اسلام مخالف' مارچ!

اسلام مخالف مہم میں الحاج امین الحسینی اور ہٹلر کی تصاویر کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

"امریکا، اسلامی ملکوں کی امداد بند کر دے کیونکہ دین حنیف [اسلام] یہودیوں سے نفرت پر اکساتا ہے۔" یہ مطالبہ ان دنوں امریکا میں جاری ایک مہم کے دوران کیا جا رہا ہے جس کے تحت دارلحکومت واشنگٹن میں چلنے والی مسافر بسوں پر 73 سال قبل ہٹلر اور مفتی دیار القدس الحاج امین الحسینی کی قد آدم تصاویر چسپاں ہیں۔

'آزادی کے تحفظ کا امریکی اقدام' نامی انجمن کے زیر اہتمام منافرت پر مبنی حالیہ مہم کی منتظم امریکی مصنفہ پامیلا گیلر ہیں۔ انہوں نے تین برس قبل "امریکا کی اسلامائزیشن بند کرو" کے عنوان سے کتاب بھی لکھی ہے۔ پامیلا نے اپنی مہم کے بارے میں کونسل آن امریکن مسلم ریلیشنز [CAIR] کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر نھاد عوض سے گفتگو بھی کی۔ "آزادی کے تحفظ کا امریکی اقدام" نامی انجمن کی تاسیس خود پامیلا گیلر اور سستی شہرت کی طلبگار اس جیسی چند دوسری امریکی ہستیوں نے کی تھی۔

پامیلا گیلر کی زیر نگرانی چلنے والی اسلام مخالف مہم میں شہر کے اندر چلنے والے بسوں پر نازی رہنما ہٹلر کی قد آدم تصویر لگائی گئی ہیں جس میں وہ مفتی القدس الحاج امین الحسینی کے ہمراہ بیٹھے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے امین الحسینی نے سنہ 1941ء میں برلن کا دورہ کیا تھا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے رپورٹ کے ہمراہ مختصر دورانیے کی کا ویڈیو کلپ بھی منسلک کیا ہے جس میں امین الحسینی اور ہٹلر کے درمیان ملاقات میں مترجم بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

مفتی دیار القدس نے ملاقات میں نازی رہنما ہٹلر کو ان خطرات سے آگاہ کیا کہ جو برطانوی انتداب کے ایماء پر یہودیوں کی فلسطین 'ہجرت' سے پیدا ہو سکتے ہیں اور اس ساری صورتحال میں ہٹلر کی خاموشی پر بھی اعتراض کیا تھا۔ مفتی فلسطین نے ہٹلر سے مطالبہ کیا تھا کہ اہم ممالک فلسطینیوں کی خواہشات کا احترام کریں اور انہیں آزادی دلانے کا اپنا وعدہ پورا کریں۔

'آزادی کے تحفظ کا امریکی اقدام' کے پرچم تلے چلائی جانے والی اسلام مخالف مہم میں ہٹلر اور مفتی فلسطین کی ملاقات پر مبنی تصویر کے ساتھ جلی حروف میں یہ تحریر درج ہے؛ "دو تہائی امریکی امداد اسلامی ملک کھا جاتے ہیں"، اس کے نیچے "نسلی امتیاز بند کرو" اور "اسلامی ملکوں کی امداد بند کرو" جیسے نفرت انگیز نعرے درج ہیں۔ یاد رہے اکیاون سالہ امریکی مصنفہ پامیلا ایسے مطالبات اپنی تحریروں میں دہراتی رہتی ہیں تاہم یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ہٹلر کی تصویر کا سہارا لیکر امریکیوں کے ذہنوں میں ان نعروں کی 'حقیقت' راسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کونسل آن امریکن مسلم ریلشنز کے مدیر منتظم ڈاکٹر نھاد عوض نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ان کی تنظیم امریکی مسلمانوں کے خلاف منافرت آمیز اس مہم کا جواب دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم میں جھوٹی باتوں کو بنیاد بنایا گیا ہے، قرآنی آیات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا ہے۔ ہماری مہم پامیلا کی بودی کوشش سے ہٹ کر ہو گی، جس کے دوران ہم قرآن کے مزید نسخے تقسیم کریں گے۔ ان کے مطابق 'کیئر' ماضی میں کلام مجید کے 80 ہزار نسخے تقسیم کر چکی ہے تاکہ امریکی اس کے مطالعے سے خود جان لیں کہ اسلام، یہودیوں سے نفرت پر نہیں اکساتا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں