.

"حاکم دبئی نے العربیہ کو کبھی سنسر کا نشانہ نہیں بنایا"

MBC گروپ کے سربراہ ولید بن الابراھیم کا میڈیا فورم میں خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مڈل ایسٹ براڈکاسٹنگ سینٹر [MBC] گروپ کے چیئرمین ولید بن الابراھیم کا کہنا ہے کہ حاکم دبئی شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کبھی خود اور نہ ہی کسی دوسرے کو العربیہ نیوز چینل کو سنسر کرنے کی ہدایت کی۔ "شیخ محمد نے ہمیں کبھی کسی موضوع پر بات کرتے ہوئے محتاط یا اس سے گریز کا نہیں کہا۔"

الشیخ ولید بن الابراھیم نے ان خیالات کا اظہار دبئی میں منعقدہ عرب میڈیا فورم کے موقع پر خصوصی انٹرویو میں کیا۔ فورم کے سٹیج پر الشرق الاوسط اخبار کے ایڈیٹر انچیف عبدالطریفی نے ان سے سوال کئے۔

الشیخ ولید بن الابراھیم عمومی طور پر ذرائع ابلاغ کو انٹرویو نہیں دیتے ہیں، تاہم عرب میڈیا فورم کے موقع پر اپنے منفرد انداز میں انہوں نے میڈیا حریفوں، سنسرشپ اور مصر میں جاری انتخابات کے موضوع پر کھل کر اظہار خیال کیا۔

سعودی میڈیا ایگزیکٹیو نے مشرق وسطی کے سب سے بڑے چینل 'العربیہ' کے توسط سے بھی ناظرین سے متنوع موضوعات پر بغیر کسی لگی لپٹی کے تفصیلی اظہار خیال کیا۔ یاد رہے کہ العربیہ اردو ویب سائٹ بھی ایم بی سی گروپ کے زیر انتظام چلنے والے العربیہ نیوز چینل ہی کا سائبر سپیس میں پرتو ہے۔

اپنی گفتگو کے دوران شیخ ولید بن الابراھیم نے غیر متوقع پر طور پر 'الجزیرہ' اور اپنے ہم وطن ارب پتی سعودی شہزادے الولید بن طلال کا حوالہ بھی دیا۔ الولید بن طلال عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والا ایک نیا چینل بحرین سے شروع کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

شیخ ولید نے شہزادہ ولید بن طلال تنقید کا جواب دیا جس میں مبینہ طور پر انہوں نے العربیہ کو 'حکمرانوں کا چینل' قرار دیا گیا تھا۔

یاد رہے مختلف الجہت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر27 ملین العربیہ فالوورز کی ثابت شدہ موجودگی سے بھی الولید بن طلال کے الزام کی تردید ہوتی ہے۔ "شہزادہ الولید بن طلال نے کہا تھا کہ العربیہ حکمرانوں جبکہ الجزیرہ عوام کا چینل ہے۔" اس کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا 27 ملین افراد آپ پر حکومت کرتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ ایم بی سی گروپ 'الجزیرہ' کی طرز پر انگریزی چینل شروع نہیں کر رہا۔ اگر یہاں اور وہاں کئے جاتے والے اقدامات کی نقالی مقصود ہو تو یقینا آپ اس کے لیے کامیاب پراجیکٹس کو معیار بنائیں گے۔ حقیقت میں یہ پوچھے جانے والا سوال یہ ہے۔"کیا 'الجزیرہ' انگلش کامیاب منصوبہ ہے؟"۔

ایم بی سی گروپ کی تاریخ پر مختصرا روشنی ہوئے ولید بن الابرھیم نے بتایا کہ ہم نے گروپ کے پہلے چینل کا آغاز سنہ 1991ء میں لندن سے کیا جس کے بعد سنہ 2002 میں اس کا مرکزی دفتر دبئی منتقل ہوا۔ دبئی منتقلی کے ایک برس بعد، یعنی 2003 میں، العربیہ نیوز چینل شروع کیا گیا۔ سنہ 2012 میں ایم بی سی گروپ نے مصر میں ایک نئے ٹی وی اسٹیشن کا آغاز کیا،

شیخ ولید نے اعلان کیا کہ ہم مزید مقامی چینلوں کا آغاز کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ فی زمانہ "پین عرب ازم کا نظریہ دم توڑ رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ہمیں ایم بی سی الجزائر، ایم بی سی مراکش اور ایم بی سی عراق شروع کرنا پڑے۔ میں امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں ہم 'ایم بی سی کویت' بھی لانچ کیا جائے۔

مصر کے صدارتی انتخاب میں سابق فوجی سربراہ عبدالفتاح السیسی کی کامیابی، عوامی حلقوں کے مطابق، نوشتہ دیوار ہے۔

شیخ ولید بن الابراھیم نے کہا: "میں سمجھتا ہوں عبدالفتاح السیسی نے ماضی میں بطولی اقدامات کیے۔ صدارتی انتخاب میں ان کی کامیابی کے بعد مصر کے مستحکم ہونے کا زیادہ امکان ہے۔"