.

پاکستان کی برازیل میں ہونے والے عالمی کپ میں ''شرکت''

ارجنٹینا کے فٹ بال ذمے داران کھیل سے زیادہ پاکستان کو جانتے ہیں: میراڈونا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کا فٹ بال کی عالمی فیڈریشن ایسوسی ایشن (فیفا) کی درجہ بندی میں تو دوسو نو رکن ممالک میں ایک سو انسٹھواں نمبر ہے لیکن اس کے باوجود فٹ بال کے لیجنڈ کھلاڑی ڈیاگو میراڈونا کا کہنا ہے کہ اس سال برازیل میں منعقد ہونے والے عالمی کپ مقابلوں میں پاکستان کی موجودگی بڑی نمایاں ہوگی۔

جی ہاں! 12 جون کو شروع ہونے والے عالمی کپ کے میچوں کے دوران استعمال ہونے والے تین ہزار سے زیادہ ''برازوکا''فٹ بالوں میں سے زیادہ تر پاکستان کے شہر سیالکوٹ کے تیار کردہ ہوں گے۔سیالکوٹ دنیا بھر میں کھیلوں کے سامان کے لیے مشہور ہے اور اس شہر میں تیار ہونے والی کھیلوں کی مصنوعات ملک کے لیے زرمبادلہ کمانے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سیالکوٹ کراچی کے بعد زرمبادلہ کمانے کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے۔

برازیل میں ایک ماہ تک جاری رہنے والے ٹورنا منٹ میں استعمال ہونے والے فٹ بال کو ''برازوکا'' کا نام دیا گیا ہے۔فٹ بال کا عالمی ٹورنامنٹ قریب آنے کے ساتھ ہی فٹ بالوں کی مانگ میں بھی زبردست اضافہ ہوگیا ہے اور اس طلب کو پورا کرنے کے لیے سیالکوٹ کی فیکٹریوں میں مختلف برانڈ ناموں سے ہزاروں کی تعداد میں فٹ بال تیار کیے جارہے ہیں۔

ان میں ایک بڑا نام فارورڈ اسپورٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کا ہے اور اسی کمپنی کو عالمی کپ ٹورنا منٹ کے میچوں کے لیے ''آدی داس'' کے مخصوص برانڈ کے فٹ بال تیار کرنے کا ٹھیکا ملا ہے۔سیالکوٹ کے کاروباریوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ عالمی کپ میں چین میں تیار کردہ فٹ بال بڑی تعداد میں مہیا کیے گئے تھے لیکن اس مرتبہ مسابقت کی دوڑ میں سیالکوٹ پھر اس کے مقابلے میں آیا ہے اور یہاں بھی ملازمین کی اجرتیں بہتر ہوئی ہیں اور برآمدات میں اضافے سے معاشی شرح نمو میں اضافہ ہوا ہے۔

بچہ مزدوری

ماضی میں بچہ مزدوری کی وجہ سے بھی سیالکوٹ کی کھیلوں کی صنعت کو دھچکا لگا تھا اور بہت سی غیرملکی کمپنیوں نے سامان منگوانے کے ٹھیکے منسوخ کردیے تھے یا شراکت داری بند کردی تھی۔لیکن اب ایسا نہیں ہے۔اگر سیالکوٹ میں کھیلوں کا سامان تیار کرنے کے کارخانوں کا دورہ کیا جائے تو آپ کو ان کے مرکزی دروازوں پر بڑے موٹے حروف میں لکھا نظر آئے گا:''ہم پندرہ سال سے کم عمر بچوں کو ملازم نہیں رکھتے''۔

واضح رہے کہ عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کی مدد سے سیالکوٹ کی کھیلوں کی صنعت بچہ مزدوری پر قابو پانے میں کامیاب رہی ہے۔ عالمی ادارہ محنت نے مختلف جگہوں کھیلوں کا سامان تیار کرنے کے مراکز کے قیام میں مدد دی ہے جس سے بے روزگار کے خاتمے میں بھی مدد ملی ہے۔اس کے علاوہ صنعتی ملازمین کی اجرتوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا گیا ہے اور اب کم سے کم اجرت دس ،بارہ ہزار روپے ہے۔

لیکن یہ چین کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے۔یہی وجہ ہے کہ چین میں تو لوگوں کے معیار زندگی میں روزبروز بہتری آرہی ہے لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔پاکستان میں کھیلوں کا سامان تیار کرنے اور برآمد کرانے والوں کی تنظیم کے صدر محمد یونس سونی کو بھی اس بات کا اعتراف ہے مگر وہ اس حوالے سے ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہمیں سستی لیبر دستیاب ہے۔اس لیے ہمارے کھیلوں کے سامان کی قیمتیں بھی چین کے مقابلے میں ارزاں ہیں۔

میرا ڈونا کا خراجِ تحسین

ارجنٹائن کو 1986ء کے عالمی کپ میں فتح دلوانے والے ڈیاگو میراڈونا نے حال ہی میں پاکستان میں تیار ہونے والے فٹ بالوں کی ایک مختلف انداز میں تعریف کی ہے اور پاکستانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔انھوں نے ارجنٹینا کے فٹ بال کے ذمے داروں کا یوں مذاق اڑایا کہ وہ اس کھیل کے بارے میں تو اتنا نہیں جانتے لیکن پاکستان کے بارے میں اس سے زیادہ جانتے ہیں۔انھوں نے کہا:''مجھے یقین ہے پاکستان کے عوام بہت سی چیزوں میں بہت بہتر ہیں لیکن میں نے پاکستان کو کبھی عالمی کپ کا فائنل کھیلتے ہوئے نہیں دیکھا''۔

میراڈونا کی شاید فٹ بال کے علاوہ اب دیگر کھیلوں کرکٹ ،ہاکی اور اسکوائش کے عالمی مقابلوں کے فائنل کھیلنے کے حوالے سے بھی بات درست ہو لیکن انھیں پاکستانیوں کی دیگر مہارتوں کا اعتراف ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان قریباً دس سال کے وقفے کے بعد ایک مرتبہ پھر عالمی کپ کے لیے اعلیٰ معیار کے فٹ بال تیار کرنے والا ملک بن گیا ہے۔

سیالکوٹ کے کارخانوں میں ہزاروں کارکنان فٹ بالوں کی تیاری میں مصروف نظر آتے ہیں۔وہ مختلف رنگوں کے فٹ بال تیار کرنے کے بعد ان میں ہوا بھر کر کے خاص مشین پر ان کی پائیداری اور معیار دیکھتے ہیں۔بہت سی فیکٹریوں میں فٹ بالوں کی مشینوں سے سلائی کی جاتی ہے اور بعض کارکنان دو سوئیوں کی مدد سے بھی سلائی کرتے نظر آتے ہیں جبکہ سیالکوٹ کے دیہات اور چھوٹے قصبوں میں بھی بڑی فیکٹریوں نے اپنے اسٹیچنگ (سلائی) مراکز قائم کررکھے ہیں جہاں زیادہ تر خواتین ہاتھوں سے فٹ بال کی سلائی کا کام کرتی ہیں۔

برازوکا فٹ بال

فارورڈ اسپورٹس ''آدی داس'' کے لیے فٹ بال کی سب سے بڑی برآمد کنندہ کمپنی ہے۔یہاں ہاتھوں اور مشینوں کے علاوہ تھرمو بانڈڈ فٹ بال بھی تیار کیے جاتے ہیں۔یہ کمپنی ہرزوجینریچ ،جرمنی میں قائم کھیلوں کا سامان تیار کرنے والے دنیا کے اس دوسرے بڑے ادارے کے لیے اسی کے برانڈ نام سے فٹ بال تیار کرتی ہے۔تھرمو بانڈڈ فٹ بال عالمی مقابلوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں جبکہ دوسرے طریقوں سے تیار کردہ فٹ بال کم معیار کے ہوتے ہیں اور وہ نسبتاً چھوٹے ٹورنا منٹوں یا عام کھیل اور میچوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

اس کمپنی کے نئی مصنوعات تیار کرنے والے شعبے کے سربراہ خواجہ حسن مسعود کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی مختلف درجوں کے بیس لاکھ سے زیادہ ''برازوکا بال'' برآمد کرے گی۔انھوں نے بتایا کہ عالمی کپ کے لیے زیادہ تر فٹ بال چین سے آئیں گے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان چین ،ویت نام اور انڈونیشیا سے اپنا کھویا ہوا حصہ دوبارہ حاصل کرسکتا ہے اور سستی لیبر کی بدولت فٹ بال کی عالمی برآمدات میں اضافہ کرسکتا ہے۔

یادرہے کہ 1990 کے عشرے تک دنیا بھر میں استعمال ہونے والے 80 فی صد فٹ بال پاکستان سے برآمد شدہ ہوتے تھے لیکن گذشتہ عشرے میں ان کی تعداد کم ہوکر صرف 18 فی صد رہ گئی۔اب سیالکوٹ کے فٹ بال کے تیار کنندگان اور برآمدگان کو اس کو 50 فی صد تک لانے کا عزم رکھتے ہیں۔

جرمنی میں قائم آدی داس نے 2010ء کے عالمی کپ کے موقع پر ایک کروڑ تیس لاکھ فٹ بال فروخت کیے تھے۔کمپنی کی ترجمان سلویا راکا گنی کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ یہ تعداد اس سے بڑھ جائے گی۔آدی داس کی ویب سائٹ پر برازوکا فٹ بال کی قیمت فروخت 160 ڈالرز لکھی ہوئی ہے جبکہ کم معیار کے فٹ بالوں کی قیمت بھی کم مقرر کی گئی ہے۔

آدی داس کی ترجمان نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ ان کی کمپنی کس ملک سے کتنی تعداد میں فٹ بال تیار کروا رہی ہے اور سیالکوٹ کی مذکورہ کمپنی نے بھی برازوکا فٹ بال کی تیاری پر آنے والی لاگت بتانے سے گریز کیا ہے۔البتہ یہ ضرور بتایا ہے کہ ان کے ہاں کام کرنے والے مزدوروں کی کم سے اجرت دس ہزار روپے ( 102 ڈالرز) ہے۔چین کے صوبہ انہوئی میں،جہاں فٹ تیار ہوتے ہیں،گذشتہ سال کم سے کم اجرت 1010 یوآن (162 ڈالرز) تھی جبکہ چین میں گذشتہ ایک عشرے میں اجرتوں میں تین گنا تک اضافہ ہوا ہے۔

یادرہے کہ سیالکوٹ نے جون 2013ء میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ایک ارب پانچ کروڑ ڈالرز مالیت کا کھیلوں کا سامان برآمد کیا تھا اور اس طرح گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں اس کی برآمدات میں 20 فی صد اضافہ ہوا تھا۔سیالکوٹ کے کھیلوں کا سامان تیار اور برآمد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ہماری معاونت کرے تو ہم اپنی برآمدات میں دگنا، تین گنا تک اضافہ کرسکتے ہیں۔