.

"سوشل میڈیا عرب دنیا کے اخبارات کی بساط لپیٹ رہا ہے"

اخباری صنعت کا خاتمہ 'ٹائم لائن' سے پہلے ممکن: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب دنیا میں اخبارات کا وجود اس وقت سے پہلے ہی معدوم ہونے جا رہا ہے، جس وقت کے بارے میں پیشگوئیاں کی گئی تھی۔ اس کی وجہ ایک اہم محقق کے مطابق یہ ہے کہ اس خطے میں سوشل میڈیا کے اثرات بہت تیزی سے پھیلتے جا رہے ہیں۔

مصنف روز ڈاؤسن نے 2010ء میں ایک مضمون ’’اخبارات کے خاتمے کی ٹائم لائن‘‘ شائع کیا تھا، اب ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ان پیشگوئیوں پر نظرثانی کر رہے ہیں، جب عرب دنیا میں اخبارات کی کوئی خاص اہمیت باقی نہیں رہے گی۔

اس سے پہلے ان کی پیشگوئی یہ تھی کہ متحدہ عرب امارات میں اخبارات 2028ء میں اور سعودی عرب میں 2034ء تک ختم ہو جائیں گے۔ تاہم دبئی میں منعقدہ عرب میڈیا فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے روز ڈاؤسن نے کہا کہ عرب دنیا سے اخبارات کا خاتمہ کافی عرصہ پہلے ہی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی تیز رفتار اُٹھان کو دیکھتے ہوئے اب یہ کہنا چاہیٔے کہ ایسا کئی سال پہلے ہی ہوسکتا ہے۔‘‘


اس اجلاس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ فیس بک اور ٹویٹر جیسے ذرائع کی آمد کے بعد دنیا میں جمہوری قدریں مضبوط ہوئی ہیں۔

عرب میڈیا فورم کے اجلاس سے یہ حقیقت اُجاگر ہوئی کہ ترقی یافتہ خلیجی اقوام میں سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی حد تک زیادہ ہوچکا ہے۔ سعودی عرب میں یوٹیوب کی وڈیوز کی کھپت فی کس دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ ٹویٹر اور فیس بک کے استعمال کی شرح بھی کافی بلند ہے۔ یہی وہ اہم وجہ ہے کہ جس کی بنیاد پر روز ڈاؤسن نے اپنی پیشگوئی پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’ترقی یافتہ عرب اقوام میں طبع شدہ اخبارات کے بجائے دیگر متبادل ذرائع سے خبریں حاصل کرنے کی شرح بہت زیادہ ہے اور اخبارات پڑھنے کی شرح کم سے کم ہوتی جا رہی ہے، چنانچہ ایسا لگتا ہے کہ یہاں اخبارات کا قبل از وقت خاتمہ ہوجائے گا۔‘‘ ڈاؤسن کا کہنا ہے کہ یہاں تک کہ قطر میں متحدہ عرب امارات سے پہلے ہی اخبارات کا خاتمہ ہو جائے گا۔

چار سال پہلے انہوں نے پیشگوئی کی تھی کہ توقع ہے کہ امریکا میں اخبارات 2017ء میں معدوم ہوجائیں گے۔

روز ڈاؤسن کی تعریف کے تحت جب اخبارات کی کل اشتہاراتی آمدنی کے ڈھائی فیصد سے کم کشش رہ جاتی ہے تو انہیں معدوم قرار دے دیا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے عوامل بھی موجود ہیں، جن کی وجہ سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں طبع شدہ اخبارات کا وجود برقرار رہ سکتا ہے۔ ان عوامل میں تارکین وطن کی آبادی اور میڈیا کو کی جانے والی سرکاری امداد شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان ممالک میں ایسے مقامات جہاں اخبارات باقی رہ جائیں گے، وہ تارکین وطن کی آبادیاں ہوں گی، جہاں ان کے لیے خصوصی طور پر شایع ہونے والے اخبارات فروخت ہوں گے۔

اس کے علاوہ حکومت بھی براہِ راست یا بالواسطہ طبع شدہ اخبارات کی مدد کر سکتی ہے، اس لیے کہ ان کا خیال ہے کہ اس سے انہیں سیاسی یا سماجی حمایت حاصل ہوتی ہے۔

ڈاؤسن کی پیشگوئی کے باوجود اخبارات اب بھی اشتہارات کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور ڈیجیٹل میڈیا دیگر مارکیٹوں میں پرنٹ میڈیا پر غالب نہیں آسکا ہے۔

پھر بھی تجربہ کار اخباری صحافیوں نے اس امکان کے پیشِ نظر کے پرنٹ میڈیا کے دور کا خاتمہ قریب ہے، اپنے اداروں سے استعفے دینے شروع کردیے ہیں۔

سعودی گزٹ کے سابق ایڈیٹر خالد المعینا کا کہنا تھا کہ وہ ڈاؤسن کی پیشگوئیوں سے مکمل طور پر متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں دیکھ سکتا ہوں کہ ایسے اخبارات جن کی ایک لاکھ چالیس ہزار کاپیاں فروخت ہوتی تھیں، اب ان کی فروخت اس حد تک گر گئی ہے کہ سعودی عرب اور اس خطے کی دوسرے مقامات پر ان کی چالیس سے پینتالیس ہزار کاپیاں ہی فروخت ہو پاتی ہیں۔ خالد المعینا نے اس کی وجہ نوجوان نسل میں اخبارات پڑھنے کے رجحانات میں کمی اور اخبارات کی پرنٹنگ اور تقسیم کے اخراجات کو قرار دیا۔

عرب ماہرین اور معروف شخصیات کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے بھی اس فورم میں شرکت کی، ان میں ایسوسی ایٹیڈ پریس کے اعلٰی سطحی رکن جان ڈینس زیواسکی بھی شامل تھے۔ انہوں نے’’اس خطے میں نیوز میڈیا کا مستقبل‘‘ عنوان پر مباحثے میں حصہ لیا۔ اس اجلاس کی میزبانی العربیہ نیوز انگلش کے ایڈیٹر انچیف فیصل جے عباس نے کی۔