.

نیم عریاں تصویر پر مطلقہ ماں بچوں کی تحویل سے محروم

عدالت کا عورت کے غیر ذمے دارانہ کردارپر بچے باپ کے حوالے کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں ایک طلاق یافتہ ماں اپنے کھلے ڈلے طرزِ زندگی کی وجہ سے بچوں کی تحویل سے محروم ہوگئی ہے اور عدالت نے اس سے بچے لے کر اس کے سابقہ خاوند کے حوالے کردیے ہیں۔

اس عورت کو کچھ عرصہ قبل طلاق ہوگئی تھی مگر وہ بچے اپنے پاس ہی رکھنے میں کامیاب رہی تھی لیکن اس کے خاوند نے اس کے اخلاق باختہ طرز زندگی سے متعلق عدالت میں تصویر اور دستاویز پیش کی ہیں جس کی بنا پر عدالت نے اس سے بچے واپس لے کر خاوند کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔

بچوں کے باپ نے عدالت میں ایک ایسی تصویر پیش کی تھی جس میں اس عورت نے بیکنی پہن رکھی تھی اور اس کے ساتھ کوئی غیر محرم مرد کھڑا تھا۔یہ تصویر پیش کرتے ہوئے اس شخص نے موقف اختیار کیا کہ اس کی سابقہ بیوی اس کے بچوں کی پرورش کے قابل نہیں ہے۔

کویت کے ایک مقامی روزنامے الرائی میں جمعرات کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس شخص کے وکیل یوسف حسین نے بتایا کہ ''میرے موکل نے بچوں کو حوالے کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی اور اس میں موقف اختیار کیا تھا کہ بچوں کو ماں پر اعتبار نہیں رہا ہے۔میرے موکل نے عدالت نے ایسی تصاویر پیش کی ہیں جس سے اس عورت کا ناپسندیدہ طرز زندگی ظاہر ہورہا تھا''۔

اخبار کے مطابق اس خاتون کی بیکنی میں تصویر بیرون ملک کھینچی گئی تھی۔عدالت میں سابق خاوند کی جانب سے پیش کی گئی دوسری دستاویز میں ایک بیان بھی شامل تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایک بچے کے اسکول والوں نے دن گیارہ بجے ماں کو فون کیا کہ ان کی کلاسیں ختم ہوگئی ہیں۔لہٰذا وہ اسکول میں آکر اپنے بیٹے کو واپس لے جائے لیکن ماں نے دوپہر ایک بجے تک اسکول کی اس کال کا کوئی جواب نہیں دیا۔نتیجتاً اسکول انتظامیہ کو پولیس سے رجوع کرنا پڑا۔ایک اور دستاویز میں بتایا گیا تھا کہ اس بچے کو زخم بھی آئے تھے۔تاہم یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ وہ کیسے زخمی ہوا تھا۔

ان وکیل صاحب کا کہنا تھا کہ ''ماں پر بچوں کی مناسب طریقے سے پرورش کے ضمن میں اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی واضح مثال بیکنی والی تصویر ہے جس سے ظاہر ہورہا ہے کہ وہ شائستہ اطوار کی حامل نہیں رہی ہے اور ایک منحرف کردار کی مالک ہے۔اس بنا پر اس پر اعتماد مجروح ہوچکا ہے کیونکہ معاشرہ تو اس کو مذہبی اور اخلاقی اعتبار سے ہی پرکھے گا''۔