ایرانی طلبہ کا بوسے باز اداکارہ کو کوڑے مارنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے قدامت پرست طلبہ وطالبات کے ایک گروپ نے کینز فلمی میلے کی افتتاحی تقریب کے موقع پر میلے کے صدرکا بوسے لینے والی اداکارہ لیلا حاتمی کو کوڑے مارنے اور قید کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایرانی طلبہ و طالبات کا یہ گروپ خود حزب اللہ کہلاتا ہے اور اس کا پاسداران انقلاب کور سے تعلق ہے۔اس نے ایرانی عدلیہ کے ہاں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ''علاحدگی'' (اے سیپریشن) میں کردار ادا کرنے والی اس اداکارہ کے خلاف مقدمہ چلانے کی استدعا کی گئی ہے۔

اس گروپ میں شامل طلبہ اور طالبات نے اپنے دستخطوں سے دائرکردہ اس درخواست میں عدلیہ کی میڈیا اور ثقافتی برانچ سے کہا ہے کہ وہ لیلا حاتمی کے خلاف سرعام گناہ کے ارتکاب اور ایک نامحرم آدمی کا بوسہ لینے پر مقدمہ چلائے کیونکہ اس جرم کی ایران کے اسلامی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 638 کے تحت سزا قید ہے۔

اس گروپ کا مزید کہنا ہے کہ ''اس فلمی اداکارہ کے فعل سے ایران کی قابل فخر قوم کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔اس لیے ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اس کو قانون کے مطابق کوڑے مارنے کی سزا بھی دی جائے''۔

ایرانی اداکارہ لیلا حاتمی کی گذشتہ ہفتے کینز فلمی میلے کے آغاز کے موقع پر صدر مجلس کا بوسہ لیتے ہوئے تصویر سامنے آئی تھی۔وہ ایران میں رہتی ہیں اور اس مرتبہ فرانس میں ہونے والے سالانہ کینز فلمی میلے کی جیوری میں شامل ہیں۔

اس اداکارہ کی تصویر سامنے آنے پر ایرانیوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور ایران کے نائب وزیرثقافت حسین نوش آبادی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ عالمی سطح پر تقریبات میں شرکت کرنے والے ایرانیوں کو ملک اور اپنے ہم وطنوں کا وقار ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ ''ایرانی خواتین وقار اور معصومیت کی علامت ہیں۔اس لیے حاتمی کی نامناسب انداز میں فلمی میلے میں موجودگی ہمارے مذہبی اعتقادات کے مطابق نہیں تھی''۔

واضح رہےکہ ایران میں 1979ء سے نافذالعمل اسلامی قوانین کے مطابق کوئی بھی خاتون کسی غیرمحرم سے اس طرح قُربت اختیار نہیں کرسکتی ہے۔ایرانی قانون کی مذکورہ دفعہ کے تحت اگر اداکارہ کے خلاف مقدمہ چلایا جاتا ہے تو انھیں ایک سے دس سال تک قید کا سامنا ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں