.

ایرانی مرد حجاب کیوں اوڑھنے لگے؟

فیس بُک پر حجاب مخالف ایرانی خواتین اور مردوں کے درمیان مقابلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حال ہی میں مردوں کی بڑی تعداد نے حجاب اوڑھنا شروع کردیا ہے اور وہ اس حالت میں اپنی تصاویر بنا کر سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بُک پر پوسٹ کررہے ہیں۔

کیا ایران میں تیسری جنس کا سیلاب آگیا ہے جو اس نے اس طرح سرپوش اوڑھنا شروع کردیا ہے یا عام مردوں کو کیا سوجھی کہ وہ ایسا کرنے لگے اور محجب بن گئے ہیں۔ نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور ایرانی مرد ،مرد ہی ہیں۔ان کی صفوں میں تیسری نسل یعنی ہیجڑوں کی کوئی آمد نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ تو بے حجاب ایرانی خواتین کا مضحکہ اڑانے کے لیے ایسا کررہے ہیں اور انھیں یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ سرپوش اوڑھنے کی صورت ہی میں ان کی عزت اور وقار ہے۔

اسی ماہ کے آغاز میں ہوا یہ ہے کہ پردہ نہ کرنے والی ہزاروں ایرانی خواتین نے اپنی کھلے چہرے والی تصاویر فیس بُک پر پوسٹ کی ہیں جس کے ساتھ ہی ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا ایرانی خواتین کو حجاب اوڑھنے یا نہ اوڑھنے کا اختیار ہونا چاہیے یا نہیں۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ پر لندن میں مقیم ایرانی صحافیہ مسیح علی نجاد نے ''میری خفیہ آزادی'' کے نام سے مہم شروع کی تھی اور ان کے اس صفحے پر ہزاروں کی تعداد میں بے حجاب ایرانی خواتین نے اپنی تصاویر پوسٹ کردیں۔اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ اس صفحے کے آغاز کے پہلے دوروز ہی میں تیس ہزار خواتین اپنی تصاویر پوسٹ کرچکی تھیں۔

''یہ ایران ہے۔ہر زلف سے ہوا کا گزرنا کسی بھی لڑکی کا سب سے بڑا خواب ہے''۔یہ اس صفحے کا کیپشن ہے۔اس مہم کا توڑ کرنے کے لیے ایرانی مردوں نے بھی فیس بُک پر اپنے صفحے بنائے ہیں اور بے پردہ خواتین کے ردعمل میں تحاریر اور تصاویر پوسٹ کررہے ہیں۔ان میں سے ایک کا سرنام ''مردوں کی خفیہ آزادیاں'' ہے۔اس صفحے پرمحجب مردوں نے بے پردہ عورتوں کا مضحکہ اڑایا ہے۔

مسیح علی نجاد کے صفحے کے جواب میں ''ایرانی خواتین کی حقیقی آزادی'' کے نام سے ایک صفحہ بنایا گیا ہے جبکہ ایرانی دارالحکومت تہران میں حجاب کے حق میں دو ریلیاں بھی نکالی گئی تھیں۔

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق اس صفحے کے لکھاریوں نے یہ لکھا ہے کہ ''حجاب آزادی ہے اور خواتین کو یہ حق نہیں دیا جانا چاہیے کہ آیا انھیں سرپوش اوڑھںا چاہیے یا نہیں''۔بعض نے لکھا ہے: ''خواتین کے وقار کے تحفظ کے لیے حجاب لازمی ہونا چاہیے''۔

ایک پوسٹ میں ایران کی بیرون ملک کام کرنے والی تین مشہور صحافیات کی تصویر کے اوپر لفظ ''ریپ'' لکھا گیا ہے۔یہ تینوں اپنے اپنے ٹی وی چینلز میں پردے کے بغیر نمودار ہوتی ہیں۔ان کی تصاویر کے ساتھ ایک انتباہی پیغام ہے جس میں کہا گیا ہے کہ''جو خواتین حجاب نہیں اوڑھتی ہیں ،ان کی عصمت ریزی کا بھی زیادہ امکان ہے''۔

علی نجاد کے صفحے پر پوسٹ کی جانے والی بے حجاب خواتین کی تصاویر ایران کی شاہراہوں ،پارکوں یا سمندر کنارے بنائی گئی ہیں حالانکہ ایران کی مذہبی پولیس کو بے حجاب خواتین کی پکڑ دھکڑ کے لیے شاہراہوں اور بازاروں میں تعینات کیا جاتا ہے۔ وہ درست طریقے سے سرپوش نہ اوڑھنے والی خواتین یا سرے سے بے پردہ خواتین کے خلاف کریک ڈاؤن کا بھی اختیار رکھتی ہے۔

علی نجاد نے مئی کے آغاز میں برطانوی اخبار گارجین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''مہم کے آغاز کے بعد سے بڑی تعداد میں پیغامات اور تصاویر موصول ہورہی ہیں اور میں گذشتہ تین روز سے سو نہیں سکی ہوں کیونکہ مجھے بڑی تعداد میں تصاویر اور پیغامات مل رہے تھے''۔ان کا کہنا تھا:''میں نے ان تصاویر کی تصدیق کی ہر ممکن کوشش کی ہے کہ یہ حقیقی اکاؤنٹس ہی سے بھیجی جارہی ہیں اور ان تصاویر کی اشاعت سے قبل متعلقہ لوگوں سے اجازت حاصل کی ہے''۔تاہم انھوں نے ان کے مکمل نام یا شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔

اس صحافیہ کا کہنا تھا کہ ''میں زبردستی کے حجاب کی مخالفت یا اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی نہیں کررہی ہوں بلکہ میں تو ہزاروں لاکھوں خواتین کو ایک آواز دینا چاہتی ہوں ،جن کا یہ کہنا ہے کہ انھیں کچھ کہنے کے لیے کوئی پلیٹ فارم دستیاب نہیں ہے۔