.

کویت: عریانیت مخالف کریک ڈاؤن ،بیکنی پر پابندی کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں پیراکی کے حوضوں (سوئمنگ پولز) اور عوامی مقامات پر عورتوں کی عریانیت پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کی گئی ہے جس کی منظوری کی صورت میں سیاح اور مقامی شہری خواتین بیکنیاں نہیں اوڑھ سکیں گی۔

کویت کی قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کے سربراہ حمدان الاعظمی نے کہا ہے کہ اس پابندی کا ہوٹلوں میں بھی خواتین پر اطلاق ہوگا۔کویت ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس رکن پارلیمان نے ''عریانیت'' کی اصطلاح کی وضاحت نہیں کی ہے۔

انھوں نے چند روز قبل ایک بیان جاری کیا تھا جس میں ساحل سمندر پر پیراکی کے حوضوں اور ہوٹلوں میں بیکنی پہننے والی عورتوں کی شدید مذمت کی گئی تھی۔اس اصطلاح میں نامناسب لباس اور جسمانی اعضاء کو ظاہر کرنا بھی شامل ہے۔

اخبار نے لکھا ہے:''اس تجویز کے قانون بننے کے لیے ضروری ہےکہ اسمبلی اس کی منظوری دے اور حکومت بھی اس کی توثیق کرے''۔اب اس قرارداد کے قانون بننے کی صورت میں خواتین ساحل سمندر پر بیکنیاں اور عریانیت کا مظہر لباس نہیں پہن سکیں گی اور جو کوئی اس کی خلاف ورزی کرے گی،اس کو ایک سال تک قید اور جرمانے کی سزا سنائی جاسکے گی۔

واضح رہے کہ 2011ء میں کویت کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے بیکنیوں پر پابندی کی تجویز مسترد کردی تھی اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ غیر آئینی ہے۔ تب کویتی پارلیمان کے بعض ارکان نے ''متعدد خواتین کی جانب سے ''نامناسب'' لباس پہننے ،ڈانس کرنے اور گانا گانے کی وجہ سے قرارداد پیش کی تھی کیونکہ ان کے بہ قول وہ عوامی اخلاقی معیار کی پاسداری نہیں کررہی تھیں۔وہ بلند آواز میں موسیقی سنتی تھیں اور اپنے کتوں کے ساتھ ساحل سمندر پر آتی تھیں''۔

ادھر پڑوسی خلیجی ریاست قطر سے یہ خبر آئی ہے کہ وہاں بھی خواتین کے بھڑکیلے لباس کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے اور اس مہم کے محرکین نے غیرملکی سیاحوں اور تارکین وطن سے کہا ہے کہ وہ ملک کے لباس کے سخت ضابطے کی پاسداری کریں۔اس پر اس ننھی خلیجی ریاست میں مقیم غیر ملکی تارکین وطن کی اکثریت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اس مہم کی جانب سے نامناسب مختصر ملبوسات کی ٹویٹر پر ایک تصویر پوسٹ کی گئی ہے اور مردوخواتین سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پیراکی کے لباس میں ساحل سمندر یا پیراکی کے حوضوں سے آنے کے بعد ادھر ادھر گھومنا نہ شروع کردیں بلکہ مناسب لباس میں عوامی مقامات پر آئیں۔

اس مہم نے سیاحوں اور قطر کے مکینوں سے کہا ہے:'' انھیں جاننا چاہیے کہ دوستانہ میزبانی اور مہمان نوازی ایسی صفات ہیں جن کا عرب دنیا میں احترام کیا جاتا ہے اور ا س کو سراہا جاتا ہے،وہ یقینی طور پر یہ بات محسوس کریں گے کہ قطری عوام کتنے مہمان نواز اور نجیب ہیں''۔