.

سوشل میڈیا کی نگرانی کے لیے سعودی قوانین میں ترمیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں حکام سوشل میڈیا پر ناجائز جنسی تعلقات، ہم جنس پرستی اور بے دینی کی تشہیر پر قدغنیں لگانے کے لیے اینٹی سائبر کرائم قانون میں مجوزہ ترمیم کا جائزہ لے رہے ہیں۔

سعودی پریس کے ایک حصے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق مجوزہ ترمیمی قانون کی منظوری کی صورت میں ٹویٹر اور سماجی روابط کی دوسری ویب سائٹس کے خلاف بے راہ روی اور الحاد کی تشہیر کرنے والے اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دینے کے الزام میں قانونی چارہ جوئی کی جاسکے گی۔

سعودی شوریٰ کونسل کے رکن محقق اور نئے میڈیا کے استعمال سے متعلق کنسلٹینٹ ڈاکٹر فیاض آل شہری نے عربی روزنامے الحیات کو بتایا ہے کہ ٹویٹر کے قریباً پچیس ہزار اکاؤنٹس میں سعودیوں کو ہدف بنایا جارہا ہے اور پینتالیس ہزار اکاؤنٹس میں الحاد کی وکالت اور تشہیر کی جارہی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ان میں پندرہ سے پچیس ہزار اکاؤنٹس عربی میں ہیں۔انھوں نے مختلف زبانوں میں ان اکاؤنٹس کا جائزہ لیا ہے۔یہ بڑے منظم انداز میں ظاہر ہوتے اور غائب ہوجاتے ہیں۔یہ ایک ثقافتی جنگ ہے۔یہ اکاؤنٹس صرف اور صرف مالی مفادات کے لیے شائع نہیں کیے جاتے ہیں۔ان کے بہ قول اس طرح کے حملوں کے پیچھے منظم ادارے کارفرما ہیں۔پہلے وہ روایتی میڈیا کے ذریعے حملہ آور ہوا کرتے تھے۔

یادرہے کہ سعودی عرب میں 26 مارچ 2007ء کو ایک شاہی فرمان کے ذریعے اینٹی سائبر کرائم لا کی منظوری دی گئی تھی۔اس قانون کا مقصد سائبر جرائم کی بیخ کنی کرنا اور ان کے مرتکبین کے لیے سزاؤں کا تعین ہے تاکہ اطلاعاتی سکیورٹی اور کمپیوٹر کے جائز استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ سرکاری مفادات ،اخلاقیات ،عمومی اقدار اور قومی معیشت کا تحفظ بھی اس قانون کے نمایاں مقاصد ہیں۔

سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ بھر میں سائبر جرائم میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔اس اہم خطرے سے نمٹنا سعودی اور خطے کے دوسرے ممالک کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔گلف بزنس مشین (جی بی ایم) نے اپنے ایک حالیہ سروے میں بتایا ہے کہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) سے تعلق رکھنے والے پینتالیس فی صد آئی ٹی پروفیشنلز نے گذشتہ بارہ ماہ کے دوران اپنے اپنے ادارے میں آئی ٹی سکیورٹی کا کم سے کم ایک واقعہ ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

جی بی ایم نے ایک مطالعے میں بتایا ہے کہ سائبر سکیورٹی کے روایتی ماڈلوں میں بہت سے نقائص پائے جاتے ہیں لیکن ان کے نئے اور بہتر حل بھی مارکیٹ میں دستیاب ہورہے ہیں۔اس میں نشان دہی کی گئی ہے کہ کمپنیوں میں سوشل میڈیا کے استعمال سے بھی سائبر سکیورٹی کے خطرات میں اضافہ ہورہا ہے۔

سائبر کرائم کے رجحانات سے متعلق بارھویں اس سالانہ سروے میں بتایا گیا ہے کہ آن لائن حملہ آور ٹیکنالوجی کی جدت کے ساتھ اپنے روکنے والوں کی نسبت کمپیوٹروں میں در اندازی ،اطلاعات کی چوری اور کاروباروں میں مداخلت کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔