.

مصر: معروف اینکر باسم یوسف کا طنزیہ ٹی وی شو بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معروف طناز اور کرشماتی ٹی وی میزبان باسم یوسف نے اپنے مقبول طنزیہ شو البرنامج کو اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

انھوں نے سوموار کو ایک نیوز کانفرنس میں اپنے پروگرام کے عملے سے مشاورت کے بعد اس کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے یہ فیصلہ مصر میں نئی سیاسی تبدیلی کے پیش نظر کیا ہے کیونکہ ان کے بہ قول پروگرام کی روح کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے اس کو بند کرنا زیادہ بہتر ہے۔

باسم یوسف اور ان کے عملے نے مصر سے کہیں باہر سے اس پروگرام کو نشر کرنے کی پیش کش بھی ٹھکرا دی ہے۔ان کے پروگرام کی بندش یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق آرمی چیف عبدالفتاح السیسی کی بطور صدر کامیابی کا باضابطہ اعلان ہونے ہی والا ہے۔وہ گذشتہ ہفتے منعقدہ صدارتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے منتخب ہوئے تھے۔

باسم یوسف ماضی میں عبدالفتاح السیسی پر ان کا نام لیے بغیر طنز کے نشر چلاتے رہے ہیں۔مصری حکام نے العربیہ نیوز کو بتایا ہے کہ البرنامج کو معطل کرنے کا فیصلہ حکومتی دباؤ کا نتیجہ نہیں ہے۔باسم یوسف کا شو ایم بی سی گروپ کے چینل ایم بی سی مصر: العربیہ نیوز سے نشر کیا جاتا رہا ہے۔

ان کا شو پہلے مصر کا سیٹلائٹ ٹیلی ویژن چینل سی بی سی نشر کرتا تھا لیکن اس نے یہ کہہ کر یہ شو نشر کرنے سے انکار کردیا تھا کہ اس میں اس کی ادارتی پالیسی اور معاہدے کی تصریحات کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور اس میں مصری ریاست کی علامات پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی گئی ہے۔

باسم یوسف نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے مختصر دور حکومت میں معاشرتی ناہمواریوں پر اپنے طنز سے بھرپور حملوں سے مختصر عرصے میں بے پایاں مقبولیت حاصل کی تھی مگر اس عملے کے ذریعے انھوں نے بہت سے مصریوں کو اپنا مخالف بنا لیا تھا۔ان میں اخوان المسلمون کے کارکنان ،بااثر میڈیا شخصیات اور عام شہری شامل ہیں۔ان کے پروگرام کی بندش کے اعلان پر سماجی روابط کی ویب سائٹس پر بہت تبصرے کیے گئے ہیں۔

قاہرہ سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار اور مبصر ڈاکٹر ایچ اے ہیلیر نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ''یہ مصر اور عرب میڈیا کے لیے ایک افسوسناک دن ہے۔جو لوگ ایک مزاحیہ شو پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں،انھوں نے اپنی کمزوریوں ہی کو طشت ازبام کیا ہے۔باسم یوسف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ بھی دوسروں کی طرح اپنے پروگرام کا ''ٹیمپو'' کم کرسکتے تھے لیکن انھوں نے اس سے انکار کردیا اور اس پر پروگرام کو بند کرنے کو ترجیح دی ہے۔

چالیس سالہ باسم یوسف نے حالیہ مہینوں کے دوران ''البرنامج'' کے ذریعے عالمگیر شہرت حاصل کی تھی۔وہ مصر کے پہلے منتخب اور اب برطرف صدر محمد مرسی کے سخت نقاد رہے ہیں اور اپنے پروگراموں میں ان کا اور ان کی پالیسیوں کا مضحکہ اڑاتے رہے ہیں۔

باسم یوسف نے اپنے شو میں اظہاررائے کی آزادی کے پردے میں ماضی میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد مرسی پر کئی مرتبہ طنز کے نشتر چلائے تھے۔اس پر انھیں برطرف صدر کے حامیوں کی جانب سے دائرکردہ مختلف مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا ۔اس کے علاوہ ان کے خلاف پاکستان کی توہین ،الحاد کی تبلیغ اور اسلام کی توہین کے الزامات میں تحقیقات کی گئی تھی۔سابق دور میں انھیں تحقیقات کے لیے حراست میں لیا گیا تھا اور ان پر جرمانہ عاید کیا گیا تھا۔