.

فیفا کپ کی میزبانی،کرپشن کے نئے الزامات کی زد میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کو 2022ء میں ہونے والے فٹ بال عالمی کپ ٹورنا منٹ کی میزبانی ملنے کے بعد سے بدعنوانیوں اور کرپشن کے الزامات کا سامنا ہےاور اب نیا الزام یہ سامنے آیا ہے کہ قطر سے تعلق رکھنے والے فٹ بال کی عالمی فیڈریشن ایسوسی ایشن ( فیفا) کے سابق نائب صدر محمد بن ہمام نے خلیجی ریاست کو میزبانی دلانے کے لیے سرکاری سطح پر معاہدوں اور دولت کو بھی استعمال کیا تھا۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے محمد بن ہمام پر یہ تازہ لزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے فیفا کی نیلامی کمیٹی کے اجلاس میں ایک اہم ایشیائی ووٹ کے حصول کے لیے سترہ لاکھ ڈالرز صرف کیے تھے۔گذشتہ ہفتے اسی اخبار نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سابق رکن کی حیثیت سے محمد بن ہمام نے کل پچاس لاکھ ڈالرز کی رقم مختلف فٹ بال عہدے داروں کو دی تھی۔

سنڈے ٹائمز کی رپورٹ میں دعویِٰ کیا گیا ہے کہ بن ہمام نے ایشیائی ملک تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے فیفا کے ایگزیکٹو ووراوی مکوڈی کے ساتھ قطر کی جانب سے سرکاری سطح پر مذاکرات کا اہتمام کیا تھا جن میں خلیجی ریاست اور تھائی لینڈ کے درمیان کروڑوں ڈالرز مالیت کی مائع گیس کے سودے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

بن ہمام نے قطر کے شاہی خاندان اور مکوڈی کے ایک سینیر مشیر کے درمیان اس گیس ڈیل کے لیے دو خفیہ ملاقاتوں کا اہتمام کیا تھا۔اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس اس ڈیل سے متعلق دستاویزات کا ایک انبار ہے لیکن میز پر ہونے والے معاہدے کی حقیقی نوعیت کے بارے میں اسے کچھ پتا نہیں ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ تھائی لینڈ نے قطر سے سالانہ دس لاکھ ٹن مائع قدرتی گیس خرید کرنے کا معاہدہ کیا تھا لیکن مائع گیس کی یہ قیمت فروخت بہت زیادہ تھی اور اس نے قطر کے ساتھ اس قیمت پر نظرثانی کے لیے بات چیت کی تھی۔

تاہم مسٹر مکوڈی نے اخبار کے اس دعوے سے انکار کیا ہے کہ انھوں نے قطر کی فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی کے لیے حمایت کے بدلے میں گیس درآمد کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ اس ڈیل میں انھیں کوئی ذاتی رعایت نہیں ملی تھی۔

بن ہمام پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنی نجی کمپنی کیمکو کے زیر انتظام فنڈز سے فیفا کے ایشیائی عہدے داروں کی حمایت حاصل کرنے اور ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن کا دوبارہ صدر منتخب ہونے کے لیے سترہ لاکھ ڈالرز کی رقم ادا کی تھی۔

سنڈے ٹائمز کی تازہ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے روسی صدر ولادی میر پوتین نے 2010ء میں فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی کا فیصلہ کرنے کے لیے فیفا کی کمیٹی کے اجلاس سے ایک ماہ قبل بن ہمام کو کھیلوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے اپنے ملک کے دورے کی دعوت دی تھی۔

اس کے دوروز کے بعد امیر قطر بھی ماسکو پہنچے تھے اور ان کے اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان گیس کی پیداوار کے ایک مشترکہ منصوبے پر بات چیت اور اس ضمن میں معاہدے کو حتمی شکل دینا تھا۔

فیفا کے اخلاقی پراسیکیوٹرز قطر کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے انتخاب سے متعلق الزامات کی تحقیقات کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقاتی رپورٹ چھے ہفتے کے بعد فیفا کو پیش کردی جائے گی۔

قطر کی عالمی کپ کمیٹی بدعنوانیوں کے الزامات کے تناظر میں کسی غلط روی کی تردید کرچکی ہے۔کمیٹی کے ایک ترجمان نے کہا کہ ''بِڈ کمیٹی نے فیفا کے نیلامی کے قواعد وضوابط اور ضابطۂ اخلاق کی سختی سے پاسداری کی تھی اور وہ عام افراد کے درمیان کاروباری معاملات کے بارے میں بالکل آگاہ نہیں تھی''۔

قطر پر لگائے گئے الزامات فیفا کی 108سالہ تاریخ میں بدترین کرپشن اسکینڈل کا حصہ تھے۔ یادرہے کہ محمد بن ہمام فیفا کی صدارت کے بھی امیدوار تھے لیکن 2011ء میں ان پر فیڈریشن کے کیربین خطے سے تعلق رکھنے والے ارکان کو رشوت دینے کا الزام لگا تھا جس کے بعد وہ امیدواری سے دستبردار ہوگئے تھے۔ان کے خلاف عاید کردہ الزامات کی تحقیقات کی گئی تھی۔وہ دسمبر 2012ء میں فیفا کا اخلاقی ضابطہ توڑنے کے مرتکب پائے گئے تھے اور فیڈریشن نے ان پر تاحیات پابندی عاید کردی تھی۔اس کے بعد وہ اپنے تمام عہدوں سے مستعفی ہوگئے تھے۔

یادرہے کہ فیفا کی ایگزیکٹوکمیٹی کے بائیس ارکان نے سوئٹزرلینڈ کے شہرزیورخ میں منعقدہ اجلاس میں روس کو 2018ء اور قطر کو 2022ء کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے منتخب کیا تھا۔ یہ فیصلہ خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا گیا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ فیفا نے ایک ہی وقت میں فٹ بال کے دوعالمی کپ مقابلوں کے لیے میزبان ممالک کافیصلہ کیا تھا۔