.

شامی جنگ نے حزب اللہ کا دیوالیہ نکال دیا: رپورٹ

جنگ میں کام آنے والوں کے ورثاء کو 50 ہزار ڈالر فی کس معاوضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شدت پسند شیعہ عسکری ملیشیا حزب اللہ کے شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں میدان جنگ میں اترنے کے نتیجے میں تنطیم سنگین مالیاتی بحران سے دوچار ہوئی ہے۔ تنظیم کو درپیش مالی بحران کے اثرات لبنان کے ان علاقوں میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں جہاں کسی نہ کسی شکل میں حزب اللہ کا کنٹرول ہے۔ ان علاقوں میں شہریوں کی آمدن نچلی ترین سطح پر آ چکی ہے۔

حزب اللہ کے گڑھ جنوبی بیروت کی آبادی سنگین اقتصادی اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اقتصادی بحران کے کئی اسباب ہیں مگر اہم ترین سبب حزب اللہ کی شدت پسندانہ پالیسیاں ہیں جن کے نتائج عوام کو بھگتا پڑ رہے ہیں۔ پچھلے کئی سال کے تسلط کے نتیجے میں جنوبی بیروت کے کئی اہم شہروں میں ترقی کا سفر رُکا ہوا ہے اور شہریوں کے کاروبار پھلنے پھولنے کے بجائے مزید سکڑنے لگے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ اپنے زیر اثر علاقوں سے شام کے لیے جنگجو بھرتی کرتی ہے اور جنگ میں کام آنے والے افراد کے اہل خانہ کو فی خاندان 50 ہزار ڈالر معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔

حزب اللہ کے پرچم تلے شام میں ہلاک ہونے والے ایک نوجوان کی والدہ نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میرا بیٹا آل بیت سے محبت میں کام آ گیا۔ تاہم اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بیٹے کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ کی جانب سے انہیں "معقول" معاوضہ بھی ادا کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شام میں حزب اللہ کی جانب سے محاذ جنگ پردسیوں لبنانی مارے جا چکے ہیں اور ہر ایک کے بدلے میں اس کے ورثاء کو پچاس ہزار ڈالر ادا کیے گئے۔ ایران اور بشارالاسد کی جنگ لڑنے والی حزب اللہ کو بھاری رقوم کی ادائیگی بہت مہنگی پڑ رہی ہے، کیونکہ اس کے مقامی آبادی پر سخت منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

مالیاتی بحران کا ایک دوسرا سبب بھی حزب اللہ ہی کو سمجھا جاتا ہے۔ حزب اللہ کے زیر انتظام علاقوں میں مسلسل بم دھماکوں اور بدامنی نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور حکومت میں حزب اللہ کو خوب نوازا جاتا رہا ہے لیکن موجودہ حکومت کی پالیسی حزب اللہ کے بارےمیں قدرے مختلف ہے۔ مغربی ملکوں کی جانب سے حزب اللہ پر عائد پابندیاں بھی تنظیم کو مالی طور پر کمزور کرنے کا موجب بن رہی ہیں۔

ماضی میں دور افتادہ افریقی ملک انگولا میں حزب اللہ سے وابستہ تنظیمیں، رئیل اسٹیٹ ادارے، روس میں موجود تاجر اور سرمایہ کار یورپی بنکوں کے توسط سے حزب اللہ کو مالی معاونت فراہم کرتے رہے ہیں لیکن یورپی یونین کی جانب سے تنظیم پر اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے بعد اسے بیرون ملک سے ملنے والی امداد محدود ہو گئی ہے۔