.

مصری طالبہ کو جنسی ہراساں کرنے پر 7 افراد گرفتار

مشتبہ ملزموں نے 19 سالہ لڑکی کا لباس تار تار کردیا تھا اور مارا پیٹا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری پولیس نے دارالحکومت قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں ایک طالبہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں سات مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ان مشتبہ ملزموں نے اتوار کو صدرعبدالفتاح السیسی کی حلف برداری کے موقع پر میدان التحریر میں جشن منانے والے شہریوں کے اجتماع میں انیس سالہ طالبہ کو جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔اس واقعہ کی کسی شخص نے موبائل فون کے ذریعے ویڈیو بنا کر سماجی روابط کی ویب سائٹس پر اپ لوڈ کردی تھی۔

اس ویڈیو میں مردوں نے نوجوان لڑکی کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔وہ اس کے تن کے کپڑے تار تار کردیتے ہیں اور اس کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔اس کے بعد پولیس اہلکار اس کو ایک گاڑی میں بٹھا کر لے جاتے ہیں۔مصر کے ایک سکیورٹی اہلکار نے اس ویڈیو کے مصدقہ ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ پولیس نے اس مجرمانہ حملے کے الزام میں سات افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور پراسیکیوٹرز سے ان مشتبہ ملزموں سے تفتیش کے لیے کہا گیا ہے۔

اس سکیورٹی عہدے دار کے بہ قول گرفتار افراد جنسی ہراسیت کے تین اور کیسوں میں بھی ملوث تھے۔مصری وزارت داخلہ نے بھی ان ملزموں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ان کی عمریں 16 سے 49 سال کے درمیان ہیں۔انھوں نے میدان التحریر میں صدر عبدالفتاح السیسی کے حلف اٹھانے کی خوشی میں ان کے حامیوں کے جشن کے دوران متعدد لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

''میں نے ہراسیت دیکھی'' نامی ایک گروپ نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ''سب سے شرم ناک امر یہ ہے کہ وزارت داخلہ کے سکیورٹی حکام نے خواتین کو ہراساں کیے جانے کے بے شمار واقعات کے باوجود اس طرح کے حملوں کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا تھا''۔

اس گروپ نے گذشتہ روز میدان التحریر میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے پانچ کیسوں کی اطلاع دی ہے۔ان عورتوں پر مردوں کے ہجوم نے مجرمانہ حملے کیے تھے اور ان میں سے چار کو طبی امداد کی ضرورت پیش آئی تھی۔

واضح رہے کہ مصری خواتین ایک عرصے سے انفرادی یا ازدحامی ہراسیت کا شکار ہیں۔اقوام متحدہ کی گذشتہ سال جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 99 فی صد زیادہ مصری خواتین کو کسی نہ کسی شکل میں ہراسیت کا سامنا ہوتا ہے۔مصری خواتین کا کہنا ہے کہ انھوں نے خواہ روایتی اسلامی لباس پہنا ہو یا مغربی طرز کے کپڑے زیب تن کیے ہیں،انھیں ہر دوصورتوں میں ہراساں کیا جاتا ہے۔

لیکن 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی معزولی کے بعد سے مصر میں خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مارچ میں جامعہ قاہرہ میں ایک طالبہ کو ہراساں کرنے کا ایک ایسا ہی کیس سوشل میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آیا تھا اور سیاہ چست پینٹ اور لمبی آستین والی اعنابی قمیص میں ملبوس طالبہ کو بعض طلبہ نے ہراساں کیا تھا۔اس واقعہ کے بعد مصر کی عبوری حکومت نے ایسے مجرموں کو سزا دینے کے لیے قانون سازی پر غور شروع کردیا تھا۔

گذشتہ ہفتے سبکدوش ہونے والے صدر عدلی منصور نے جنسی ہراسیت کے مرتکبین کو سزائیں دینے کے لیے ایک قانون پر دستخط کیے تھے۔اس کے تحت اس جرم میں ملوث افراد کو بھاری جرمانے اور لمبی قید کی سزائیں سنائی جاسکیں گی۔

اس قانون میں ہراساں کرنے والے کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ''عوامی یا نجی جگہ پر دوسروں کا پیچھا کرنے والا،جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے فحش یا جنسی اشارے کنائے کرنے یا الفاظ استعمال کرنے والا ہراسیت کا مرتکب قرار پائے گا اور اس کو جیل ،جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی''۔

قانون کے تحت دوسروں کو ہراساں کرنے والے شخص کو ایک سے دس سال تک قید اور 1433 ڈالرز سے 2866 ڈالرز تک جرمانے کی سزا دی جاسکے گی۔ خواتین کو ان کے کام کی جگہوں یا اسکولوں میں ہراساں کرنے والوں کو تین سے پانچ سال تک قید کی سزا دی جائے گی اور ہجوم کی شکل میں چھیڑخوانی کرنے اور ہراساں کرنے والوں کو پانچ سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔اس قانون کے نفاذ کے باوجود انسانی حقوق کے کارکنان نے مصر میں انسداد ہراسیت کے لیے عوامی رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔