.

شادی کے لیے اسد کے 15 حامیوں کا 'سر حق مہر' لوں گی

عقد ثانی کے لیے بزرگ شامی بیوہ 'ام الشہداء' کی انوکھی شرط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف تین سال سے جاری بغاوت کی جنگ ہولناک واقعات سے بھری پڑی ہے مگر المناک داستانوں میں بسا اوقات عجیب وغریب نوعیت کی خبریں بھی آ جاتی ہیں۔

اسی سلسلے کی ایک منفرد خبر یہ ہے کہ حمص سے تعلق رکھنے والی ایک بیوہ خاتون نے ایک شخص کے ساتھ نکاح کے لیے بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والے پندرہ جنگجوؤں کے سر بہ طور حق مہر مانگے ہیں اور ساتھ ہی طلاق کے لیے پچاس سروں کی شرط رکھی ہے۔

تفصیلات کے مطابق شام کی قبائل کونسل کے سرکردہ رکن الحاج احمد الرمیلات نے چار شہید بیٹوں کی ماں مسز عمشہ الفاعوریہ المعروف "ام شہدا" کا رشتہ مانگا۔ ام شہداء نے اس شرط پر نکاح کے لیے حامی بھر لی کہ وہ مہر مؤجل کے طور پر بشارالاسد کی حمایتی پندرہ جنگجوؤں کے سر وصول کرے گی اور طلاق کی صورت میں شوہر کو پچاس جنگجوؤں کے سر مہیا کرنا ہوں گے۔ پچہتر سالہ الحاج احمد الرمیلات، جن کے اپنے دو بیٹے شام کی جنگ میں بشار الاسد کی فوج کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں، نے عمشہ الفاعوریہ کی شرط مان لی ہے اور وہ اب 'حق مہر کا بندو بست' کر رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الحاج الرمیلات کے ایک قریبی عزیز نے اردن کے دارالحکومت عمان میں شام کے سفارت خانے کے باہر تین جون کو دیے گئے ایک دھرنے کے دوران بتایا کہ الرمیلات ام الشہداء سے نکاح کے لیے اس کی پیش کردہ شرط پر عمل درآمد کرنے کو تیار ہیں۔ وہ جلد ہی شرط پوری کر کے چار شہیدوں کی ماں کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ام شہداء جیسی بہادر خواتین خال خال ہی دستیاب ہوتی ہیں جو مشکل ترین حالات کا مقابلہ بھی مردانہ وار کرتےہوئے دشمن کے ہر قسم کے زخم سہتی چلی جاتی ہیں۔ انہوں نے یکے بعد دیگرے اپنے چار بیٹے اور اپنا شوہر تحریک انقلاب میں قربان کیے لیکن اس کے عزم انقلاب میں ذرا برابر لغزش نہیں آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق الحاج الرمیلات جلد ہی پندرہ اسدی جنگجوؤں کے سرپیش کرکے مسزعمشہ الفاعوریہ سے نکاح کر لیں گے۔ دونوں زندگی کے آخری ایام میں ہیں لیکن دونوں میں وطن کے لیے اپنی جانوں کی قربانی کا جذبہ بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔