.

بلیک میلر بھائی کے خلاف سعودی خاتون کا عدالت سے رجوع

بہن نے بھائی کو پالنے پوسنے میں زندگی کھپا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ایک بزنس وویمن نے اپنے چھوٹے بھائی کی بلیک میلنگ سے تنگ آ کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ اکلوتا ولی ہونے کی وجہ سے چھوٹا بھائی بہن سے بلا جواز رقم کا مطالبہ کرتا ہے اور انکار پر بہن ہی کے خلاف ناروا پابندیوں کی دھمکیاں دیتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جدہ کی جنرل کورٹ میں پچاس سالہ خاتون نے اپنے چوبیس سالہ بھائی کے خلاف دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اسے 'ولی' اور اکلوتا محرم ہونے کی بناء پر بلیک میل کر رہا ہے۔

دعوے کے مطابق مدعیہ کے والدین فوت ہو گئے تو ان کی اولاد میں صرف وہ دو بہن بھائی حیات رہے۔ بھائی بہت چھوٹا تھا جس کی کفالت کی تمام تر ذمہ داری بہن پر عائد تھی۔ بہن کی زیر کفالت تعلیم تربیت پانے کے بعد جب بھائی بالغ ہوا تو وہی اپنی ہمشیرہ کا 'محرم' اور "ولی" قرار پایا کیونکہ والدین فوت ہو چکے تھے اور خاتون نے شادی نہیں کی تھی۔

جب سے بھائی کو ولی کا درجہ دیا گیا اس دن سے بہن کو بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ آج چار سال سے بھائی کے ہاتھوں ستائی ہوئی ہے۔

درخواست میں خاتون نے موقف اختیار کیا کہ اس کا بھائی اسے مسلسل بلیک میل کر کے بھاری رقوم کا تقاضا کرتا رہتا ہے۔ اس [بھائی] کا مطالبہ ہے کہ سفر پر جانے سے قبل دس ہزار ریال دو ورنہ وہ اجازت نہیں دے گا۔ گھریلو اخراجات کی مد میں بھی بہن سے پانچ ہزار ریال ادا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے. نیز اپنی شادی کے تمام اخراجات کی رقم بہن ہی فراہم کرے ورنہ وہ اسے بھی شادی کی اجازت نہیں دے گا۔ جوانی کا تمام عرصہ بہن نے بھائی کی کفالت پر لگا دیا اور خود شادی نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق معاملے کے قانونی پہلو پر بات کرتے ہوئے خاتون ماہر قانون بیان زھران نے کہا کہ اگر خاتون کا دعویٰ درست ہے تو اسے ثابت کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت مہیا کرنا ہوں گے. یہاں معاملہ 'محرم' اور 'ولی' کا نہیں بلکہ بلیک میلنگ کا ہے کیونکہ ایک بھائی محض اپنی 'ولایت' کی آڑ میں بہن کو بلیک میل کر رہا ہے۔ زھران کا کہنا ہے کہ 'ولایت' عہدہ یا منصب نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کا نام ہے۔