.

السیسی سابق پاکستانی صدر ضیاء الحق کے نقش قدم پر!

ایندھن بچانے کے لیے قاہرہ کی سڑکوں پر بائیسکل چلانے نکل آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے '' فوجی کم منتخب صدر'' عبدالفتاح السیسی اور پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ضیاء الحق مرحوم کے درمیان بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔دونوں کی شخصی خصوصیات کم وبیش ایک جیسی ہیں یا عبدالفتاح السیسی شعوری اور لاشعوری طور پر ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کررہے ہیں.

جنرل ضیاء الحق مرحوم نے 1980ء کے عشرے میں اپنے دورحکومت میں ایک مرتبہ ایندھن کی بچت کے لیے بائیسکل چلائی تھی۔بالکل اسی طرح صدر السیسی نے جمعہ کو فن کاروں ،میڈیا کی شخصیات اور طلبہ کے ہمراہ بائیسکل میراتھن میں حصہ لیا ہے۔

مصری وزیراعظم ابراہیم محلب اور وزیردفاع صدقی صبحی بھی بیس کلومیٹر طویل اس میراتھن میں شریک تھے۔ بائیسکل چلانے کی یہ مشق قاہرہ جدید میں واقع ملٹری اکیڈمی سے شروع ہوئی تھی۔عبدالفتاح السیسی کی اس مہم کا مقصد لوگوں کی بائیسکل چلانے اور پیدل چلنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے اور شہریوں کو ایندھن کی بچت کی ترغیب دینا ہے جس کی درآمد پر سالانہ اربوں ڈالرز اٹھ جاتے ہیں ۔

انھوں نے سرکاری میڈیا سے نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ '' اگر آپ کار چلاتے ہیں تو آپ کو بیس یا پچیس کلومیٹر فاصلے کے لیے قریباً چار پاؤنڈز(مصری) خرچ کرنا پڑتے ہیں اور مصر ان بیس کلومیٹرز کے لیے آٹھ پاؤنڈز صرف کرتا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر تین ہزار افراد روزانہ اس طرح میرے ساتھ سائیکل چلائیں تو روزانہ کتنی بچت ہوگی؟'' مگر قاہرہ کی سڑکوں پر بائیسکل چلانے والے کم ہی نظر آتے ہیں اور بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے شاہراہوں اور چوکوں ،چوراہوں پر گاڑیاں پھنسی نظر آتی ہیں۔

مصر نے اس مالی سال کے دوران ایندھن کی مد میں زرتلافی پر 170 ارب مصری پاؤنڈز (24 ارب ڈالرز) صرف کیے ہیں۔یہ رقم 30 جون کو ختم کو ہونے والے سالانہ بجٹ کا پانچواں حصہ ہے۔سرکاری میڈیا کے مطابق مصری حکومت آیندہ مالی سال کے دوران ایندھن کی مد میں زرتلافی کی رقم کم کرکے 104 ارب پاؤنڈز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مصر میں ایندھن کی قیمتیں دنیا کے بیشتر ممالک کے مقابلے میں کم ہیں اور ماضی کی حکومتیں اعلانات اور معاشی اصلاحات کے باوجود عوامی احتجاج کے پیش نظر زرتلافی کو ختم نہیں کر سکی تھیں لیکن اس طرح زرتلافی پر ملنے والے ایندھن کی کھپت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ہے حالانکہ ایندھن کی رسد طلب کے مقابلے میں کم وبیش روزانہ ہی کم پڑ جاتی ہے اور پیٹرول اسٹیشنوں پر لوگوں کو قطاروں میں کھڑے ہونا پڑتا ہے۔

مصر کے سرکاری میڈیا نے یہ تو نہیں بتایا کہ صدر عبدالفتاح السیسی کی ایندھن کی بچت کے لیے بائیسکل چلانے کی اس مہم سے قومی خزانے کو کل کتنی بچت ہوئی ہے اور ان کی سکیورٹی پر کتنی رقم اٹھی ہے۔ماضی میں جب پاکستان کے سابق صدر ضیاء الحق مرحوم نے اسی انداز میں بائیسکل چلائی تھی تو ایندھن کی بچت سے زیادہ رقم ان کی سکیورٹی پر اٹھ گئی تھی۔

یادرہے کہ جنرل ضیاء الحق کو پاکستان کے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ان سے بعض سینیر جرنیلوں کو نظرانداز کرتے ہوئے آرمی چیف بنایا تھا لیکن جنرل صاحب نے 4 جولائی 1977ء کو وزیراعظم بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور دو سال بعد انھیں قتل کے ایک مقدمے میں پھانسی چڑھا دیا گیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق گیارہ سال تک چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ،صدر اور منتخب صدر کے طور پر پاکستان پر حکمرانی کرتے رہے تھے اور 17 اگست 1988 ء کو ایک فوجی طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔

مصر کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کی طرح بعض سینیر جرنیلوں کو نظر انداز کرکے عبدالفتاح السیسی کو آرمی چیف مقرر کیا تھا۔انھوں نے ایک سال کے بعد ہی جولائی 2013ء میں ڈاکٹر مرسی کی حکومت ختم کردی اور اپنی نگرانی میں ایک عبوری حکومت تشکیل دی تھی۔اس دوران وہ فیلڈ مارشل ہوگئے اور گذشتہ ماہ منعقدہ صدارتی انتخابات میں 96 فی صد ووٹ لے کر مصر کے منتخب صدر بن چکے ہیں۔