.

برطانیہ میں جبری شادی پر پابندی کا قانون نافذالعمل

لڑکے یا لڑکی کی جبری شادی کرنے والوں کو سات سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں جبری شادیوں پر پابندی کا قانون آج سوموار سے نافذ العمل ہوگیا ہے۔اس کے بعد جو لوگ بچوں کی جبری شادیوں میں قصوروار پائے گئے،انھیں سات سال تک جیل کی سزا سنائی جاسکے گی۔

اس قانون کا نہ صرف برطانیہ میں اطلاق ہوگا بلکہ بیرون ملک جبری شادی کرنے والے برطانوی شہریوں پر بھی اس قانون کا اطلاق کیا جاسکے گا۔ایسے برطانوی شہریوں میں زیادہ تر پاکستان ،بنگلہ دیش اور بھارت سے آبائی تعلق رکھتے ہیں جو اپنے بچوں یا بچیوں کی آبائی ممالک میں آکر ان کی مرضی کے خلاف شادیاں کردیتے ہیں۔

برطانوی حکومت کا جبری شادی یونٹ (ایف ایم یو) ایسے افراد کے خلاف کارروائی کا ذمے دار ہے۔اس کے پاس آنے والے دوتہائی کیسوں کا تعلق جنوب ایشیائی نژاد برطانوی شہریوں سے ہوتا ہے۔برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون سے جبری شادی کے بندھن میں بندھنے والے بہت سے نوجوان شہریوں کو ریلیف ملے گا۔

برطانوی وزیرداخلہ تھریسا مے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''جبری شادی ہر متاثرہ شخص کے لیے ایک المیہ ہے اور اس کی نوعیت کا یہ مطلب ہے کہ بہت سے کیس تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے ہیں۔برطانیہ پہلے ہی اس ضرررساں عمل کی روک تھام کے لیے اقدامات میں سب سے آگے ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''آج جبری شادی کو قابل تعزیر جرم بنا کر اس حکومت نے متاثرہ افراد کو قانونی تحفظ دے دیا ہے۔انھیں اب اپنے جیون ساتھی کے انتخاب کے عمل میں اعتماد ،تحفظ اور آزادی حاصل ہوگی''۔

گذشتہ سال ایف ایم یو نے جبری شادیوں کے قریباً تیرہ سو کیسوں کا سراغ لگایا تھا۔ان میں سے اٹھارہ فی صد مردوں کے تھے۔چالیس فی صد متاثرین کی عمریں سترہ سال یا اس سے کم تھیں اور ایک تہائی کی عمریں بائیس سال سے کم تھیں۔

ان کیسوں کا تعلق 74 مختلف ممالک سے تھا لیکن پاکستانیوں کے ایسے کیسوں کی تعداد سب سے زیادہ 43 فی صد تھی۔بھارت کے 11 فی صد اور 10 فی صد کیس بنگہ دیش سے تعلق رکھنے والوں کے تھے۔جن دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والوں کے کیس رپورٹ ہوئے ،ان میں افغانستان ،صومالیہ ،عراق ،نائیجیریا ،سعودی عرب ،یمن ،ایران اور تیونس شامل ہیں۔

قومی سوسائٹی برائے انسداد مظالم اطفال کا کہنا ہے کہ اس سے بارہ سال کی عمر تک کے بچوں نے جبری شادیوں سے بچانے کے لیے رجوع کیا تھا۔ایش چانڈ نامی خیراتی ادارے نے نئے قانون کو ایک بڑا قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے اپنے ہی بچوں کے خلاف سازش کرنے والے والدین کو روکنے میں مدد ملے گی۔