.

فلسطینی خاتون اول کو تل ابیب میں یرغمال بنانے کا مطالبہ

سوشل میڈیا پر فی گھنٹہ ایک فلسطینی کے قتل کی مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین میں گذشتہ ہفتے پُراسرار طور پر لاپتا ہونے والے یہودی آباد کاروں کی تلاش کے جُلو میں انتہا پسند یہودی حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ لاپتا یہودیوں کی بازیابی تک فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی تل ابیب میں زیر علاج اہلیہ کو یرغمال بنا لیا جائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کے ایک انتہا پسند رُکن میخائل بن آرئے نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تین یہودی آباد کاروں کی بازیابی تک محمود عباس کی اہلیہ کو حراست میں لے۔ اس کا کہنا ہے کہ تین یہودی طلباء کی حماس سے بازیابی کا یہ بہترین موقع ہے اگر یہ موقع بھی ہاتھ سے گیا تو اسرائیل کو یہودی آباد کاروں کی بازیابی میں بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

خیال رہے کہ محمود عباس کی اہلیہ امینہ عباس گذشتہ جمعہ کو پاؤں میں تکلیف کے بعد اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کے "اسوتا" اسپتال میں لے جایا گیا تھا جہاں ان کے پاؤں کی سرجری کی گئی ہے۔

اسرائیل سے شائع ہونے والے عبرانی روزنامہ"یدیعوت احرونوت" کی رپورٹ کے مطابق محمود عباس کی اہلیہ کا تل ابیب کے اسپتال میں نہایت راز داری میں علاج جاری ہے اور اسپتال میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امینہ عباس اسپتال کی چھٹی منزل میں ہڈیوں کے علاج کے لیے مختص وارڈ میں زیر علاج ہیں۔ تاہم "اسوتا" استپال کے ذرائع نے اس خبر کی تردید کرتےہوئے اس پر مزید تبصرے سے گریز کیا ہے۔

امینہ محمود عباس کو یرغمال بنانے کا حامی صہیونی رکن پارلیمنٹ "کاخ" نامی انتہا پسند تنظیم سے تعلق رکھتا ہے۔ بن آرئے کا ماضی کا ٹریک ریکارڈ بھی فلسطین دشمنی، نفرت اور عربوں کی نسل کشی کے مطالبات سے عبارت ہے۔

سنہ 2012ء میں مصرکی جانب سے اسرائیل کو گیس کی فراہمی معطل ہونے کے بعد جزیرہ نما سینا میں فوجیں داخل کرنے کے مطالبات کرنے والوں میں بھی "کاخ" پیش پیش تھی۔ اس تنظیم کا مطالبہ تھا کہ اسرائیل، مصر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم ہونے کےبعد تل ابیب، قاہرہ کو ایک "دہشت گرد" ملک کے طور پر ڈیل کرے اور اس کے ساتھ طے پائے تمام امن معاہدے منسوخ کر دیے جائیں۔

سنی 2012ءکے اوائل میں میخائل بن ارئے "نیشنل الائنس" نامی ایک شدت پسند تنظیم کا رکن تھا۔ اس نے اسرائیل میں "مسیحی فاؤنڈیشن" کے قیام پر بہ طور احتجاج انجیل مقدس کا نسخہ پھاڑ ڈالا تھا۔ بعد ازاں یہ "کاخ" میں شامل ہو گیا۔