.

دوشیزہ پر بازاری پھبتی کسنے پر مصری ڈرائیور کو سزا

فوری سماعت کے بعد عدالت نے 700 ڈالر جرمانہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے خواتین کو ہراساں کرنے کے بڑھتے ہوئے رحجان کی حوصلہ شکنی کے لئے کیے جانے والے مظاہرے میں شریک ایک دوشیزہ پر بازاری پھبتی کسنے کی پاداش میں ایک ٹیکسی ڈرائیور کو سات سو ڈالر [پانچ ہزار مصری پاٶنڈ] جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے یہ جرمانہ سماعت کے فوری بعد سنایا۔ متاثرہ خاتون اور عینی شاہدین نے استغاثہ کو بتایا کہ مدعی علیہ نے خواتین کی ہراسیت کے خلاف ہونے والے مظاہرے کو تضحیک کا نشانہ بنایا اور انہیں بازاری انداز میں عربی میں 'ہنی' اور 'ہاٹ گرل' کہہ کر مخاطب کیا۔

چار دنوں سے زیر حراست ٹیکسی ڈرائیور نے الزام کی صحت سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا اعتراف کیا کہ اس نے لڑکیوں سے مظاہرے کی جگہ سے گزرنے کے لئے راستہ مانگا تھا۔

اگرچہ مبینہ طور پر ڈرائیور کی ہراسیت کا شکار بننے والی لڑکی نے مقدمہ واپس لے لیا تھا، تاہم جج نے اسے جرمانے کی سزا سنائی۔

یاد رہے مصر میں خواتین کو ہراساں کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد سابق عبوری صدر عدلی منصور نے ایک قانون کی منظوری دی تھی جس میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کو غیر قانونی اقدام قرار دیا گیا تھا۔ جنسی زیادتی کے خلاف منظور قانون کے ذریعے پہلے سے موجود قوانین میں ترمیم کی گئی تھی جس میں جنسی ہراسیت کو صرف 'نازیبا اقدام' قرار دیا گیا تھا۔

صدر عبدالفتاح السیسی نے حلف اٹھانے کے فوری بعد وزیر داخلہ محمد ابراہیم کو جنسی ہراسیت کے سدباب کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے اور اس جرم کے سدباب کی طرح بنائے گئے نئے قانون پر فیصلہ کن عمل درآمد کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔