.

"مورو۔ منیلا امن معاہدہ سیاسی عمل کا نکتہ آغاز ہو گا"

اسلام پسند فلپائنی تنطیم کے سربراہ کا "العربیہ" کو خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلپائن میں مسلمان عسکریت پسند گروپ ’’مورو اسلامک لبریشن فرنٹ‘‘ نے حکومت کے ساتھ تاریخی امن سمجھوتے پر دستخط کر دیئے۔ یوں براعظم ایشیا کا طویل ترین اور مہلک تنازعہ حل ہو گیا ہے۔ مورو فرنٹ کے چیئرمین الحاج مراد ابراہیم نے کہا یہ ہماری محنت کا پھل ہے۔ یاد رہے مسلمان الگ وطن کے قیام کیلئے کئی دہائیوں سے عسکری و سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں۔

مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے سربراہ الحاج مراد ابراہیم کا کہنا ہے کہ منڈیناو کا 'جامع معاہدہ' ان کی تنظیم اور فلپائنی حکومت کے درمیان 'سمجھوتے' کا نتیجہ ہے جو آگے چل کر منڈیناو کے لوگوں کی خود اختیاری کو یقینی بنائے گا۔"

ان خیالات کا اظہار انہوں نے 'العربیہ' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان سے یہ انٹرویو چینل کے دبئی میں مقیم جنوب اور مشرقی ایشیا کے بیورو چیف بکر عطیانی نے ملائشیا کے دارلحکومت کوالالمپور میں کیا۔

ایک سوال کے جواب میں حاجی مراد نے بتایا کہ ان کا محاذ سیاسی جماعت تشکیل دے گا۔ یہ سیاسی جماعت سنہ 2016ء میں ختم ہونے والے موجودہ عبوری دور حکومت کے بعد جمہوری عمل میں حصہ لے گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سال 27 مارچ کو طے پانے والا معاہدہ منڈیناو میں تمام لوگوں کو جمہوری عمل میں شرکت کا موقع فراہم کرے گا۔ اس کے بعد عوام پر حکمرانی کا فیصلہ بیلٹ باکس کے ذریعے ہو گا۔

الحاج مراد نے دعوی کیا کہ معاہدے سے ابو سیاف گروپ جیسی جرائم پیشہ تنظیموں اور افراد کو تنہا کرنے میں مدد دے گا۔ مورو فرنٹ کے رہنما نے الزام عاید کیا کہ ابو سیاف گروپ جیسی تنظیمیں بدعنوان فوج اور سیاسی عناصر اپنے اپنے مفاد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ منیلا حکومت سے طے پانے والے معاہدے سے منڈیناو کو نیم خود مختار ریاست کا درجہ حاصل ہو جائے گا، جو فلپائن کی مرکزی حکومت کے تحت کام کرے گی۔ فلپائن کی فوج ریاست میں موجود رہے گی تاہم امن و امان کی ذمہ داری پولیس فورس انجام دے گی جو مقامی افراد پر مشتمل ہو گی۔

مورو فرنٹ کے رہنما نے واضح کیا کہ امریکا اور فلپائن حکومت کے درمیان وسیع تر فوجی معاہدے سے ان کی جماعت کو اس وقت تک تشویش نہیں جب تک یہ معاہدہ منیلا اور اسلامی لبریشن مورو فرنٹ کے درمیان معاہدے پر اثر انداز نہیں ہوتا۔