.

علامہ العریفی کی تبلیغ سے برطانوی جہادیوں کی ذہنی تربیت

تین یمنی نژاد برطانوی نوجوان سعودی عالم کی تبلیغ سے متاثر ہوکر شام پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے سخت گیر عالم دین محمد العریفی آئے دن اپنے متنازعہ فتووں اور بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں۔اب ان کے بارے میں تازہ اطلاع یہ سامنے آئی ہے کہ انھوں نے تین برطانوی نوجوانوں کی جہاد کے لیے ذہنی تربیت کی تھی اور اس وقت وہ تینوں شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

محمد العریفی برطانوی شہر کارڈیف میں واقع المنار مرکز کی مسجد میں خطاب فرماتے ہیں۔برطانوی اخبار ڈیلی میل میں اتوار کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق شام میں جنگجو تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش) میں شامل ہوکر جہاد کرنے والوں میں دو سگے بھائی اور تیسرا ان کا دوست ہے۔ان میں دو دوستوں ناصر مثنیٰ اور ریاض خان کے عمریں بیس سال ہیں۔یہ دونوں حال ہی میں داعش کی ایک ویڈیو میں نمودار ہوئے تھے۔اس ویڈیو کا عنوان ہے:''جہاد کے بغیر کوئی زندگی نہیں ہے''

ناصر مثنیٰ نے جہاد میں حصہ لینے کے لیے میڈیکل کی تعلیم کو تیاگ دیا ہے۔بعد میں اس کا چھوٹا بھائی سترہ سالہ اصیل بھی ان کے ساتھ شام آگیا تھا۔ان کے یمنی نژاد والد احمد مثنیٰ کا کہنا ہے کہ ان کے دونوں بیٹے المنار مرکز میں جاتے رہتے تھے اور وہیں ان کی جہاد کے لیے ذہنی تربیت کی گئی تھی۔

کارڈیف میں یمنی کمیونٹی کے ایک ذریعے کا بھی یہ کہنا ہے کہ المنار مرکز ہی میں ان تینوں کو جہاد کے لیے ذہنی غسل دیا گیا تھا۔علامہ العریفی نے اس مسجد میں جون 2012ء میں خطاب کیا تھا۔آن لائن پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کے مطابق نمازی بڑے پُرجوش انداز میں ان کے اردگرد موجود تھے۔

مسجد کے ایک ٹرسٹی براق البیتی کا کہناہے کہ ''ناصر مثنیٰ بھی دوسرے نوجوانوں ہی کا طرح تھا لیکن میں تو اس کو ویڈیو میں دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا ہوں۔مجھے یقین ہے کہ یہ مسجدکٹڑ پن کا ذریعہ نہیں بنے گی۔ہم مسلح جدوجہد کے لیے شام جانے کے خلاف ہیں اور بہت سے مواقع پر یہ بات کہہ چکے ہیں''۔

ڈیلی میل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ المنار مرکز کے زعماء کا اسی ہفتے اجلاس ہورہا ہے جس میں وہ اس ایشو پر تبادلہ خیال کریں گے۔المنار مرکز کی ویب سائٹ کے مطابق وہ کارڈیف کی گیارہ ہزار مسلمانوں پر مشتمل کمیونٹی کو خدمات مہیا کررہا ہے اور اس کے علاوہ برطانیہ کی غیر مسلم آبادی کو بھی اسلامی تعلیمات سے متعارف کرارہا ہے۔

واضح رہے کہ علامہ محمد العریفی گاہے گاہے متنازعہ بیانات یا فتووں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی تنازعہ کھڑا کیے رکھتے ہیں اور سوئٹزرلینڈ نے ان کے انتہا پسندانہ خیالات کی وجہ سے ان پر ملک میں داخلے پر پابندی عاید کررکھی ہے۔گذشتہ سال ایک انٹرویو میں انھوں نے القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کے بارے میں کہا تھا کہ ان کی بڑے پیمانے پر کردار کشی کی گئی تھی لیکن بعد میں انھوں نے اپنا یہ بیان واپس لے لیا تھا۔

دسمبر 2012ء میں علامہ العریفی نے والدین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو ایم بی سی 3 (العربیہ ٹی وی کا سسٹر چینل) دیکھنے سے روکیں کیونکہ ان کے بہ قول اس کے مواد کے ذریعے الحاد اور بے راہ روی کو فروغ دیا جارہا ہے۔

ایم بی سی 3 کے زیادہ تر پروگرام بچوں کے کارٹونوں پر مشتمل ہوتے تھے۔چینل نے علامہ العریفی کے اس بیان کے ردعمل میں کہا تھا کہ ''پروگراموں سے متعلق ان کی ٹویٹر پوسٹ حقیقت سے کوسوں دور ہے اور انھیں اپنے ذہنی علاج کے لیے کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے''۔