.

سعودی عرب: دوسری خاتون پائیلٹ کو لائسنس کا اجراء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں خواتین کو کاریں چلانے کی تو اجازت نہیں ہے البتہ وہ طیارے اڑا سکتی ہیں اور حال ہی میں ایک اور خاتون تجارتی پروازیں چلانے کے لیے درکار لائسنس حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے یاسمین محمد المیمانی نامی اس خاتون پائیلٹ کو اگلے روز لائسنس جاری کیا ہے۔ان سے قبل رواں سال کے آغاز میں حنادی زکریا الہندی کو سعودی عرب کے اندر کمرشل پروازیں چلانے کے لیے لائسنس جاری کیا گیا تھا اور وہ یہ اجازت نامہ حاصل کرنے والی پہلی سعودی خاتون تھیں۔

کیپٹن یاسمین المیمانی نے 2010ء میں اردن سے پرائیویٹ پائیلٹ ہونے کا لائسنس حاصل کیا تھا۔اسی سال وہ سعودی عرب میں آگئی تھیں اور ہوابازوں کی تربیت کے ادارے ربیغ ونگز ایوی ایشن میں ایک سال تک کام کرتی رہی تھیں۔

اس دوران انھیں امریکا میں قائم ایروسیم فلائٹ اکیڈیمی کی جانب سے یہ پیش کش ہوئی تھی کہ وہ مشرق وسطیٰ میں ان کی سفیر بن جائیں۔اس اکیڈیمی نے انھیں آٹوکمرشل پائیلٹ لائسنس کے حصول کے لیے وظیفے کی بھی پیش کش کی تھی جو انھوں نے قبول کرلی اور فلوریڈا چلی گئی تھیں۔وہاں سے سعودی عرب واپسی پر وہ فلائٹ آپریشنز سروسز کمپنی نیکسس کے لیے کام کرتی رہی تھیں۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایوی ایشن کی صنعت بڑی تیزی سے فروغ پارہی ہے اور خطے میں آیندہ برسوں میں پانچ ہزار طیاروں کی آمد متوقع ہے۔اس کے پیش نظر ماہرین نے یہ پیشین گوئی کی ہے کہ عالمی سطح پر تربیت یافتہ ہوابازوں کی تعداد کم پڑ جائے گی۔ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ آیندہ پندرہ سال میں موجودہ تعداد سے دُگنا پائیلٹ درکار ہوں گے۔

سعودی عرب میں ہوابازوں کی تربیت کے لیے دو ادارے قائم ہیں۔ان میں سے ایک ربیغ ونگز ایوی ایشن اکیڈیمی ساحلی شہر جدہ سے شمال مغرب میں واقع مغربی صوبے میں قائم ہے۔ دوسری سعودی ایوی ایشن فلائٹ اکیڈیمی (سافا) ہے جو دارالحکومت الریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے نزدیک ثمامہ ائیرپورٹ پر واقع ہے۔

ان دونوں اکیڈیمیوں میں نوآموز پائیلٹوں کو کمرشل پروازیں چلانے کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔سعودی عرب میں کمرشل پائیلٹ بننے اور اس کے لائسنس کے حصول پر قریباً تین لاکھ ریال اٹھ جاتے ہیں۔یہ رقم دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے لیکن وہاں کے سفری اور قیام وطعام کے اخراجات بھی اگر شامل کرلیے جائیں تو پائیلٹ بننے میں اتنی ہی رقم صرف خرچ ہوجاتی ہے۔پھر غریب الدیاری الگ ہے۔

دنیا کی بڑی فضائی کمپنیاں پندرہ سو سے دوہزار گھنٹے تک پروازیں چلانے کا تجربہ رکھنے والوں کو پائیلٹ کے طور پر بھرتی کرتی ہیں لیکن اگر کسی پائیلٹ کا تجربہ صرف تین سو گھنٹے تک ہو تو وہ اس کی درخواست کو لائق اعتناء نہیں سمجھتی ہیں۔چنانچہ پائیلٹ حضرات لائسنس حاصل کرنے کے بعد سیاحتی پروازیں اڑا کر یا مختلف اداروں کے فضائی سروے کے لیے طیارے اڑا کر اپنے مطلوبہ گھنٹے پورے کر لیتے ہیں۔یوں تجارتی پروازیں چلانے کے لیے درکار تجربہ کے حامل ہوجاتے ہیں۔