.

متنازعہ سعودی عالم دین العریفی کا برطانیہ میں داخلہ بند

برطانوی شہریوں کو شام میں جہاد کی ترغیب دینے کے ردعمل میں فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ نے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے متنازعہ عالم دین محمد العریفی پر ان کے انتہا پسندانہ نظریات کی وجہ سے ملک میں داخلے پر پابندی عاید کردی ہے۔

برطانوی دفتر خارجہ کے ایک ترجمان نے بدھ کو العربیہ نیوز کو ایک بیان میں علامہ العریفی کے ملک میں داخلے پر اس پابندی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ برطانوی حکومت معاشرے کے لیے خطرے کا موجب بننے والے افراد کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار پر کوئی معذرت نہیں کرے گی۔

علامہ محمد العریفی آئے دن اپنے متنازعہ فتووں اور بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں۔اسی ہفتے ان پر برطانوی میڈیا نے یہ الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے تین برطانوی نوجوانوں کی جہاد کے لیے ذہنی تربیت کی تھی اور اس وقت وہ تینوں شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار ہیں۔وہ اگلے روز انٹرنیٹ پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں نمودار ہوئے تھے۔

برطانیہ سے قبل سوئٹزرلینڈ نے بھی علامہ العریفی پر ان کے انتہا پسندانہ خیالات کی وجہ سے ملک میں داخلے پر پابندی عاید کررکھی ہے۔ وہ اپنے خطبات میں مسلم نوجوانوں کو شام جاکر جہاد کی ترغیب دیتے رہے ہیں لیکن خود وہ اتنے نازک مزاج واقع ہوئے ہیں کہ وہ سعودی عرب کے شدید گرم موسم کی تاب نہیں لاسکتے اور گرمیاں یورپ کے ٹھنڈے ماحول میں گزارتے ہیں۔

وہ برطانوی شہر کارڈیف میں واقع المنار مرکز کی مسجد میں خطاب فرماتے رہے ہیں۔علامہ العریفی نے اس مسجد میں جون 2012ء میں خطاب کیا تھا۔آن لائن پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کے مطابق نمازی بڑے پُرجوش انداز میں ان کے اردگرد موجود تھے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق المنار مرکز کے زعماء کا اسی ہفتے اجلاس ہورہا ہے جس میں وہ اس ایشو پر تبادلہ خیال کریں گے۔المنار مرکز کی ویب سائٹ کے مطابق وہ کارڈیف کی گیارہ ہزار مسلمانوں پر مشتمل کمیونٹی کو خدمات مہیا کررہا ہے۔اس کے علاوہ برطانیہ کی غیر مسلم آبادی کو بھی اسلامی تعلیمات سے متعارف کرارہا ہے۔

گذشتہ سال ایک انٹرویو میں علامہ العریفی نے القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کے بارے میں کہا تھا کہ میڈیا میں ان کی بڑے پیمانے پر کردار کشی کی گئی تھی لیکن بعد میں انھوں نے اپنا یہ بیان واپس لے لیا تھا۔

دسمبر 2012ء میں علامہ العریفی نے والدین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو ایم بی سی 3 (العربیہ ٹی وی کا سسٹر چینل) دیکھنے سے روکیں کیونکہ ان کے بہ قول اس کے مواد کے ذریعے الحاد اور بے راہ روی کو فروغ دیا جارہا ہے۔

ایم بی سی 3 کے زیادہ تر پروگرام بچوں کے لیے کارٹونوں پر مشتمل ہوتے تھے۔چینل نے علامہ العریفی کے اس بیان کے ردعمل میں کہا تھا کہ ''پروگراموں سے متعلق ان کی ٹویٹر پوسٹ حقیقت سے کوسوں دور ہے اور انھیں اپنے ذہنی علاج کے لیے کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے''۔