مخالف جنس سے کھیل اسلام کے منافی ہے : سعودی عالم

وقت کے ضیاع والے کھیلوں اور فٹ بال میچ دیکھنے کی ممانعت ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ایک معروف عالم دین نے کہا ہے کہ آن لائن مخالف جنس سے بلئیرڈز کھیلنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

سعودی فقہ سوسائٹی کے رکن ولید الوضعان نے اپنے فتویٰ میں کہاہے کہ ''اسلام میں کھیلوں میں مخالف جنس کے افراد کے آپس میں گھلنے ملنے کی بھی ممانعت ہے کیونکہ اس طرح کے کردار سے کھلاڑیوں کے درمیان غیر اخلاقی کردار کی راہ ہموار ہوسکتی ہے''۔

فقہ سوسائٹی کے جریدے میں ایک مضمون میں علامہ وضعان نے لکھا ہے کہ تفریح موجودہ دور کا ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے لیکن اسلام نے انٹرٹینمنٹ کے لیے متعدد ضابطے وضع کررکھے ہیں۔انھوں نے لکھا ہے کہ ہلہ گلہ کرکے گاڑیوں کو دوڑانے کی بھی ممانعت ہے کیونکہ اس سے انسانی جانوں اور املاک کا نقصان ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ''ڈرائیوروں کو ضروری تربیت کے بعد ہی گاڑیاں کو دوڑانے کی اجازت ہونی چاہیے۔انھیں گاڑیاں چلانے کی مکمل مہارت ہونی چاہیے،اگر انھیں اس بات کا یقین ہو کہ وہ اپنی جانوں کو یا دوسروں کی جانوں اور املاک کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے تو اسی صورت میں انھیں گاڑیاں چلانے کی اجازت دی جانی چاہیے''۔

انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ''اسلام میں خطرناک کھیلوں کی بھی اجازت نہیں ہے''۔اس ضمن میں انھوں نے کوہ پیمائی کی مثال دی ہے اور کہا ہے کہ کوہ پیماؤں کو غیر متوقع صورت حال کا سامنا ہوسکتا ہے جس سے ان کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوسکتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں اور کار دوڑ جیسے کھیلوں کی ان سے لاحق ممکنہ خطرات کے پیش نظر ممانعت ہے۔ پارکوں میں گھڑسواری کی اسی صورت میں اجازت دی جا سکتی ہے،اگر انسانی جان کے تحفظ کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہوں لیکن کھیلوں میں بہت زیادہ وقت کے ضیاع اور فٹ بال میچوں کو دیکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں