.

لبنان : بیوی پر تشدد کرنے والے خاوند کو 9 ماہ قید

گھریلو تشدد مخالف قانون کےتحت دوکروڑ لبنانی پاؤنڈز جرمانہ بھی دینا ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں ایک عدالت نے ایک شخص کو اپنی بیوی کو ظالمانہ انداز میں مارنے پیٹنے کے الزام میں قصوروار قرار دے کر نوماہ قید اور دوکروڑ لبنانی پاؤنڈز جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

تیس سالہ ملزم حسین فتونی نے اپنی بائیس سالہ اہلیہ تمارا حريصی کو وحشیانہ انداز میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور اس کی آنکھوں پر بھِی چوٹیں آئی تھیں۔عدالت نے اس کے خلاف گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے اپریل میں منظور کردہ قانون کے تحت فیصلہ سنایا ہے۔

لبنانی خواتین کے حقوق کی علمبردار ایک تنظیم کفا نے اس فیصلے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے لیکن اس نے مجرم خاوند کو بیہمانہ جرم پر سنائی گئی سزا کو ناکافی قراردیا ہے اور اس پر تنقید کی ہے۔

اس تنظیم کی کمیونیکشن ڈائریکٹر مایا عمار کا کہنا ہے کہ ''عدالت کے لیے یہ کم سزا سنانے سے تو بہتر تھا کہ وہ مجرم کو رہا ہی کردیتی کیونکہ اس کے وکیل نے یہی استدعا کی تھی۔عدالت نے اس کو صرف اپنی بیوی کو تشدد کا نشانہ بنانے پر قصور وار قرار دیا ہے لیکن قتل کی کوشش کے الزام میں فرد جرم عاید نہیں کی ہے''۔

تمارا حريصی نے مقامی انگریزی روزنامے سٹار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''میرا خاوند تین گھنٹے تک مجھے ٹانگیں باندھ کر تشدد کا نشانہ بناتا رہا تھا اور اس نے میری انگلیاں بھی توڑ دی تھیں۔اس نے الکوحل چھڑک کر آگ لگانے کی بھی کوشش کی تھی۔وہ مجھے اسی حالت میں چھوڑ کر گھر سے باہر چلا گیا تھا اور یہ دھمکی دے کر گیا تھا کہ وہ واپسی پر مجھے قتل کردے گا''۔

مایا عمار کا کہنا تھا کہ مضروبہ حریصی کے خاوند کو سزا تو مل گئی ہے لیکن اب اس کو مذہبی عدالت سے طلاق لینے کے لیے اضافی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کے لیے ایک طویل جدوجہد کرنا ہوگی۔تاہم انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مذہبی حکام یہ طلاق دلوا دیں گے۔

واضح رہے کہ لبنان کو مشرق وسطیٰ میں سب سے لبرل ملک خیال کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود لبنانی خواتین کے خلاف بہت سے امتیازی قوانین رائج ہیں۔خواتین کو گھروں میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن وہ عوامی تنقید کے ڈر سے اپنے خاوندوں کے خلاف پولیس کو شکایت درج نہیں کراتی ہیں اور پولیس بھی عام طور پر تشدد کا نشانہ بننے والی عورتوں کو اپنے خاوندوں کے ساتھ ہی واپس گھر جانے کا مشورہ دے کر اپنی جان چھڑوا لیتی ہے۔