ایرانی خواتین کے لیے'شرعی' اسپورٹس کٹ کی نمائش!

شرعی فیشن شو میں شریک ماڈلز نے کیٹ واک بھی کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برازیل میں جاری فٹبال ورلڈ کپ کے دوران ایرانی خواتین تماشائیوں اور فٹ بالروں کو مغربی لباس سے دور رکھنے اور انہیں 'شرعی لباس' کا پابند بنانے کے لیے ایک منفرد فیشن شو کا اہتمام گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ اس شرعی فیشن شو کا اہتمام تہران میں بیت موضہ فاؤنڈیشن تنظیم نے کیا تھا جس میں خواتین ماڈلز کو ایران کے قومی پرچم کے رنگوں سے ڈیزائن کردہ 'شرعی اسپورٹس کٹ' میں کیٹ واک بھی کرائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق فیشن کی نمائش میں پیش کردہ لباس کے ڈیزائن میں مختلف ایرانی لوگو بھی شامل ہیں جو فن کاروں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بیت موضہ فاؤنڈیشن کی خاتون ڈائریکٹر مریم مویدی نے تہران میں ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ برازیل میں جاری فٹبال ورلڈ کپ نے ایرانی سماج بالخصوص کھیل کے شعبے سے وابستہ لوگوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صنف نازک بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں۔

مریم کا کہنا تھا کہ فٹبال کپ کے حوالے سے شرعی لباس ڈیزائن کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس سے زیادہ مشکل اس لباس کی نمائش تھی، کیونکہ حکومت سے بہ مشکل تمام اس کی اجازت حاصل کی گئی۔ تاہم یہ ایک کامیاب نمائش تھی جسے اندرون اور بیرون ملک ایرانی شہریوں کی جانب سے داد تحسین پیش کی گئی۔

ایک سوال کے جواب میں مریم مویدی کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم نے فٹ بال کپ کی مناسبت سے خواتین کے لیے چار مختلف نمونوں کے ملبوسات ڈیزائن کیے ہیں۔ خواتین کھلاڑیوں کے یونیفارم کی شکل میں ڈیزائن کردہ لباس میں ایرانی پرچم، قومی تہذیب وثقافت کے اظہار کے مختلف دیگر سلوگن اور چیتے کی شکل بنائی گئی تھی۔

تنظیم کے ایک دوسرے عہدیدار جاوید شیرازی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ایشیائی فٹ بال کپ کے مقابلوں کے دوران بھی ان کے تیار کردہ خواتین تماشائیوں کے مخصوص لباس کو غیر معمولی پذیرائی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسپورٹس کےحوالے سے تیارکردہ مخصوص ملبوسات سے حاصل ہونے والی رقم قومی فٹ بال ٹیم کی مدد پر صرف کی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق بیت موضہ فاؤنڈیشن ملبوسات کی نمائش کے حوالے سے سرکاری طور پر رجسٹرڈ ادارہ ہے جو وزارت مذہبی امور کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔

یاد رہے کہ مغربی تہذیب کے دیکھا دیکھی ایران میں بھی مغربی طرز لباس کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر فٹبال مقابلوں کے موقع پر خواتین 'غیر شرعی' لباس کے ساتھ ان میں شرکت کرتی ہیں۔ تماشائیوں کے لیے شرعی نوعیت کے لباس سے مغربی کلچر کو شکست دینے میں مدد ملے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں