ملائشیا: پلے بوائے کلب کی سابقہ ویٹرس دائرہ اسلام میں داخل

نومسلمہ نے سالگرہ کے موقع پر اسلام کی قبولیت کو ''دوسرا جنم'' قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ملائشیا سے تعلق رکھنے والی پلے بوائے کلب کی سابقہ ویٹرس ( بنّی) دائرہ اسلام میں داخل ہوگئی ہیں اور انھوں نے اسلام کی قبولیت کو اپنا دوسرا جنم قرار دیا ہے۔

28 سالہ فلیکیشیا ژیپ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر اپنے مسلمان ہونے کی اطلاع دی ہے لیکن انھوں نے اسلام قبول کرنے سے قبل ہی سرپوش اوڑھنا شروع کر دیا تھا۔انھوں نے لکھا ہے:''آج میری سالگرہ ہی نہیں بلکہ اس دن میرا دوبارہ جنم ہوا ہے۔میں اٹھائیس سال کے بعد گھر کی تلاش کے بعد لوٹی ہوں''

بہت سے غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد اپنا نام تبدیل کرلیتے ہیں اور اسلامی نام رکھ لیتے ہیں لیکن ژیپ نے ایسا نہیں کیا اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا چینی نام ''چِن ژی'' برقرار رکھیں گی کیونکہ ان کی ماں نے یہ نام رکھا تھا۔

ژیپ ملائشیا میں مقیم چینی نسل سے تعلق رکھتی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ''میرے چینی نام کا مطلب راحت اور شوخی ہے۔میں سات ماہ تک اسلام کے بارے میں مطالعہ کرتی رہی ہوں۔اس کے بعد میں نے اسلامی حجاب اوڑھنا شروع کردیا تھا''۔

لیکن گذشتہ سال دسمبر میں جب ان کی ازخود حجاب اوڑھنے اور اس سے محبت کی کہانی منظرعام پر آئی تھی تو ان کے فیس بُک صفحے پر ایک لاکھ اڑتالیس ہزار مداحوں میں سے بہت سے انھیں خیرباد کہہ گئے تھے کیونکہ ان لوگوں کو ژیپ کا حجاب اوڑھنا اچھا نہیں لگا تھا اور انھوں نے اپنے تئیں اس فعل کو شہرت حاصل کرنے کا ایک حربہ قرار دیا تھا۔

ژیپ نے لکھا ہے کہ ''میں نے جب حجاب اوڑھنے کا عزم کیا تھا تو اس وقت تک میں دل سے مسلمان نہیں ہوئی تھی اور اس لمحے ( 3 جولائی صبح 6 بجے) تک جب میں نے اسلام قبول کیا ہے تو میں بہت سے امتحانوں اور مسائل سے گزری ہوں''۔

ژیپ پڑوسی ملک مکاؤ میں پلے بوائے کلب میں ویٹرس کے طور پر کام کرتی رہی تھیں۔واضح رہے کہ ان کلبوں میں کام کرنے والی دوشیزائیں مختصر لباس پہنتی ہیں۔اس نومسلمہ ملائشین چینی خاتون نے بتایا کہ ''اسلامی تعلیمات کے مطالعہ کے عرصہ کے دوران مجھے تنقید اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اس تمام سفر کے دوران والدہ واحد ہستی تھیں جنھوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور رشتہ داروں کی طنز وتضحیک سے بھی میرا دفاع کرتی رہی تھیں''۔

انھوں نے بتایا کہ ''والدہ نے میرے اسلام قبول کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ جب میں نے انھیں بتایا کہ میں اسلامی تعلیمات سیکھ رہی ہوں اور عقیدۂ توحید کو قبول کرنا چاہتی ہوں تو انھوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور دعائیں دیں''۔

انھوں نے مزید لکھا ہے:''اپنا مذہبی عقیدہ تبدیل کرنے والے بہت سے لوگوں کو ان کے اپنے خاندان والے چھوڑ دیتے ہیں اور ان سے لاتعلقی ظاہر کردیتے ہیں جبکہ بعض لوگ تو لاتعلقی اور تنہائی سے بچنے کے لیے اپنے خاندان کے افراد پر اسلام ظاہر ہی نہیں کرتے ہیں''۔

ملائشیا کی نیوز ویب سائٹ ملائشین انسائیڈر کی اطلاع کے مطابق ژیپ نے گذشتہ جمعہ کو پہلی مرتبہ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل قریباً دوہزار افراد کے سامنے اپنے مسلمان ہونے کی اطلاع دی تھی۔اس کے بعد سے ان کے بارے میں ایشیائی میڈیا میں شہ سرخیوں کے ساتھ خبریں شائع کی جارہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں