بھارت میں شرعی عدالتیں غیر قانونی قرار

فتوٶں کو بنیادی انسانی حقوق پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا: عدالت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت کی عدالت عظمیٰ نے ملک میں شرعی عدالتوں پر پابندی کی درخواست کو مسترد کر دیا تاہم فیصلے میں کہا گیا کہ شرعی عدالتوں کو مسلمانوں یا ان سے متعلق فیصلوں پر کوئی قانونی اختیار نہیں۔ اسلامی شرعی عدالتوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فتووں کے اجراء پر پابندی عائد کر دی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست کی گئی تھی کہ ملک میں قائم شرعی عدالتیں عوام کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اس لئے ان پر پابندی لگائی جائے۔ جس پر عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اسلام سمیت کوئی بھی مذہب ایسے ضابطوں سے معصوم افراد کو سزا دینے کی اجازت نہیں دیتا جنھیں قانونی طور پر منظوری حاصل نہ ہو۔ بلاشبہ فتوے کو اسلام میں اہمیت حاصل ہے لیکن اسے کسی انسان کے بنیادی حقوق پر اثر انداز ہونے کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

بھارتی عدالت نے قرار دیا کہ ملک میں قائم شرعی عدالتوں اور دارا لقضا کو آئینی منظوری حاصل نہیں ہے اور وہ ایسے کوئی فیصلے اور فتوے نہیں دے سکتے جن سے فرد کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ اس طرح کے فیصلے اور فتوے کالعدم اور غیر قانونی ہوں گے۔

یاد رہے کہ سنہ دو ہزار پانچ سے چلنے والے اس مقدمہ کا فیصلہ گذشتہ 25 فروری 2014 کو محفوظ کر لیا گیا تھا جسے پیر کے روز جسٹس چندر موہن کمار اور جسٹس پناکی چندر گھوش نے سنایا۔

یاد رہے کہ ایڈووکیٹ وشو لوچن مدان نے یہ پیٹیشن 2005 میں اس وقت دائر کی تھی جب ایک کیس میں ایک خاتون کو اپنے شوہر اور بچوں کو چھوڑ کر اپنے سسر کے ساتھ رہنے کو کہا گیا تھا جس نے انہیں ریپ کیا تھا۔ مسٹر مدان نے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کے تحت پٹیشن دائر داخل کرتے ہوئے شرعی عدالتوں اور فتوٶں کے نظام کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے اپنی پٹیشن میں موقف اختیار کیا تھا کہ ملک میں ایک ساتھ دوہرا عدالتی نظام نہیں چل سکتا۔ مدان کا کہنا تھا ملک میں تقریبا 52 سے 54 اضلاع ایسے ہیں جہاں دارلافتا اور قاضی القضاة کے تحت شرعی عدالتیں چل رہی ہیں۔ ان عدالتوں سے باقاعدہ نوٹس جاری ہوتے ہیں اور شریعت کے مطابق فیصلے بھی سنائے جاتے ہیں جس سے مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ متاثر ہوتا ہے۔ ایڈووکیٹ مدان نے اس سلسلہ میں مرکزی حکومت سمیت اتر پردیش، بہار اور دیگر کچھ ریاستوں کو بھی فریق بنایا تھا۔

سنہ 2007ء میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ شرعی فیصلے سول کورٹ کے نظام میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرتے اور نہ ہی قاضئ اور مفتی کو آئین ہند کی طرف سے کوئی اختیارات دیئے جاتے ہیں اس لئے شرعی عدالتوں کی مساوی عدالتی نظام قرار دینا درست نہیں ہے۔

اسی طرح آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے داخل کئے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ شرعی عدالتوں کے غلط معنی نکالنے جا رہے ہیں کیونکہ شرعی فیصلوں کا سول کورٹ کے فیصلوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شرعی فیصلوں سے متفق نہیں ہے تو وہ سول کورٹ جانے کے لئے پوری طرح آزاد ہے اور آئین ہند کے مطابق فیصلہ لے سکتا ہے۔ دارالعلوم دیو بند کا کہنا تھا کہ یہ شرعی عدالتیں باہمی اور گھریلو جھگڑوں کو نمٹانے کے لئے ہوتی ہیں جس میں زمین، جائیداد، نکاح اور طلاق کے مسائل آتے ہیں۔

بورڈ نے اس سلسلے میں قانونی نکتہ بھی پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ شرعی عدالتیں آلٹرنیٹ ڈیسپوٹ ریڈریسل [آے ڈی آر] میکانزم کا حصہ ہیں جو برسوں سے قائم ہیں اور معاشرے کے لئے بیش قیمت خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں