.

قلعہ نما عمارتیں مدینہ شہر کی شناخت تھیں

مدینہ منورہ کے فن تعمیر پر 'العربیہ' چینل کی خصوصی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مدینہ منورہ اپنے تاریخی قلعوں کے فن تعمیر کی وجہ سے بھی مشہور ہے لیکن جدید دور میں آبادی میں اضافے کے ساتھ یہ تاریخی قلعے معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے خمیس الزہرانی نے ان قلعوں میں جا کر ایک رپورٹ تیار کی ہے جو منسلک ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مدینہ منورہ ماضی قریب تک چٹانوں سے بنے قلعوں اور چار دیواری والی قلعہ نما عمارتوں سے جانا جاتا تھا۔ پہاڑی چٹانوں سے بنے یہ قلعے دراصل تاریخ کے امین ہیں اور اس تاریخ کی کہانی بیان کرتے ہیں جو شاید کتابوں میں بھی درج نہیں ہے۔

ایک طرف تو تاریخ کی کتب میں درج حقائق ہیں اور دوسری جانب ان قدیم قلعوں کا ہر کونا کھدرا، ہر حصہ بھی ایک تاریخ بیان کرتا ہے اور ہمیں ایسے حقائق سے آگاہ کرتا ہے جو ابھی تک صفحۂ قرطاس پر منتقل نہیں ہوئے ہیں۔

مدینہ منورہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے وقت یہود کے قبیلہ بن نضیر کے سردار کعب بن الاشرف کے قلعہ کے شہر کے بعض دوسرے قلعوں کی طرح آثار ابھی باقی ہیں۔ اس قلعہ کے بعض کمرے اور مصوری کے نمونے اب بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ عمارت عرب کے جاہلی دور سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کی اب تک موجودگی اس بات کی غماز ہے کہ اسلامی تہذیب نے دوسری تہذیبوں اور ثقافتوں کو برقرار رکھا ہے۔ چودہ سو سال قبل بنی نضیر قبیلہ کا سردار کعب ابن الاشرف اس قلعہ میں رہتا رہا تھا۔ اس نے مدینہ سے جنوب مشرق میں ایک ہزار مربع میٹر سے زیادہ رقبے پر یہ قلعہ تعمیر کروایا تھا۔ ابن الاشرف جب کبھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ستایا کرتا تھا یا مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جنگ کی آگ بھڑکانے کی کوشش کرتا تھا تو اس کے بعد وہ اس قلعہ میں آ کر بند ہو جایا کرتا تھا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس قلعہ کی قدرتی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے تعمیر کی گئی تھی۔ شہر مدینہ اپنے نواحی علاقوں سے فن تعمیر کی وجہ سے ممتاز تھا۔ جاہلی دور کی تمام عمارتوں کی تعمیر چٹانوں سے کی گئی تھی اور انھیں گارے اور قدرتی اشیاء سے بنے دوسرے آمیزے کے ساتھ جوڑا گیا تھا جبکہ اس کے بہت بعد میں عمارتوں کی تعمیر میں اینٹوں اور سیمنٹ کا استعمال شروع ہوا تھا۔

کعب بن اشرف مسلمانوں کی غزوہ بدر میں کامیابی کے بعد ان کا دشمن بن گیا تھا۔ اس نے اپنے قلعہ میں بیٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں شروع کر دی تھیں اور وہ اپنے ہم مذہبوں اور کفار عرب کو مسلمانوں کے خلاف اشتعال دلاتا رہتا تھا۔ اس نے قلعہ کی اندرونی عمارت کو سیاہ آتش فشانی چٹانوں سے بنوایا تھا۔ اس کے چاروں طرف دیواریں تھیں اور ان کے درمیان ستون تھے جن سے یہ بیرونی دیواریں اور بھی مضبوط ہو گئی تھیں۔