.

امریکی کمپنی کا داعش کے باعث نام تبدیل کرنے کا فیصلہ

شدت پسند تنظیم نے کاروباری دنیا میں بھی دہشت پھیلا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی عراق و شام 'داعش' کے جنگجوئوں نے صرف عراق اور شامی حکمرانوں کی نیندیں ہی حرام نہیں کر رکھیں بلکہ میڈیا میں اس انتہا پسند گروہ کے نام کے انگریزی مخفف ISIS سے ملتے جلتے ادارے بھی اپنی شناخت تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 'پے پال' اور 'گوگل والٹ' کی طرز پر آن لائن ادائیگی کے شعبے کام کرنے والے ادارے 'آئسس' Isis کی انتظامیہ بھی اس شش و پنج میں مبتلا ہے کہ وہ کیونکر خود کو داعش کا دم چھلا بننے سے محفوظ بنانے کا اقدام کر سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 'آئسس' کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ پیر کو داعش سے ملتے جلتے اپنے نام کو تبدیل کردے گی۔

'آئسس' کے انتظامی سربراہ مائیکل ایبٹ نے ایک بیان میں اس تبدیلی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم کسی ایسے گروہ سے ملتا جلتا نام ہرگز برقرار نہیں رکھیں گے جو کہ تشدد پسند ہے۔ ہماری دعائیں مظلوم عوام کے ساتھ ہیں۔"

مسٹر ایبٹ کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ نیا نام سامنے لانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے مگر انہوں نے اس موقع پر تجویز کردہ کوئی نیا نام نہیں بتایا۔