.

بحرین میں موجود معاون امریکی وزیرخارجہ ناپسندیدہ قرار

سفارتی آداب کے منافی سرگرمیوں پر ملک سے نکل جانے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین نے امریکا کے معاون وزیرخارجہ (اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ) برائے جمہوریت ،انسانی حقوق اور محنت ٹام میلنووسکی کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا ہے۔ان پر ملک کے داخلی امور میں دیدہ دلیری سے مداخلت کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ فوری طور پر خلیجی ریاست سے نکل جائیں۔

بحرین کی سرکاری خبررساں ایجنسی بی این اے کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ نے ٹام میلنووسکی کو ایک ''خاص جماعت'' کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا ہے۔وہ سفارتی آداب کے منافی سرگرمیوں میں ملوث تھے اور عوام میں اختلافات پیدا کررہے تھے۔اس طرح بین الریاستی تعلقات میں بگاڑ کا موجب بھی بن رہے تھے''۔

بحرین خلیج کے خطے میں امریکا کا اہم اتحادی ملک ہے اور امریکا کا پانچواں بحری بیڑا اس خلیجی ریاست میں موجود ہے لیکن اس کے باوجود اس کی وزارت خارجہ نے دورے پر آئے معاون امریکی وزیرخارجہ کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا ہے۔اس سے دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کی عکاسی ہوتی ہے۔امریکا بحرین کو انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تنقید کا نشانہ بناتا رہتا ہے۔

ادھر واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان جین سکئی نے کہا ہے کہ ''انھوں نے ٹام میلنووسکی کے لیے بحرین سے بے دخلی کے حکم سے متعلق رپورٹس ملاحظہ کی ہیں لیکن ان سمیت امریکی سفارت کار کی ایک ٹیم بحرین ہی میں رہے گی اور ہم اس کی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں''۔

سکئی نے نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ ''ٹام میلنووسکی بحرین میں ہیں اور وہ بحرین ہی میں رہیں گے کیونکہ ان کا یہ دورہ ابھی مکمل نہیں ہوا ہے اور ہم اس ملک کے سرکاری حکام سے قریبی رابطے میں ہیں''۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال بحرین کے ارکان پارلیمان نے حکومت سے منامہ میں تعینات امریکی سفیر کو داخلی امور میں مداخلت سے باز رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے کہا تھا کہ امریکی سفیر سفارتی آداب کو بلائے طاق رکھ کر حزب اختلاف کے لیڈروں سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔

بحرین کے اہل تشیع حکومت پر سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے دیوار سے لگانے کے الزامات عاید کرتے رہتے ہیں لیکن حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔شیعہ جماعتوں کی قیادت میں حزب اختلاف نے 2011ء میں بحرینی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک برپا کردی تھی لیکن سرکاری سکیورٹی فورسز نے اس کو فرو کردیا تھا۔ان مظاہروں کے بعد حکومت نے بعض اصلاحات کی ہیں اور مظاہرین پر تشدد کے واقعات میں ملوث پولیس اہلکاروں کو برطرف کردیا ہے۔