چار خواتین افسروں کو الجزائر میں جنرل کے عہدے پر ترقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عرب ممالک کی فوج میں زیادہ انحصار مردوں پر کیا جاتا ہے، جس کے بعد یہ تاثر زور پکڑ رہا تھا کہ فوج کے تمام اعلیٰ عہدے صرف مردوں کا حق ہیں، تاہم اس باب میں شمالی افریقا کے سب سے بڑے عرب ملک الجزائر نے اپنی فوج میں شامل چار خواتین کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سنہ 2010ء میں صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے فاطمۃ الزھرا عرجون نامی خاتون فوجی افسر کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی، جس کے بعد حال ہی میں تین مزید خواتین کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے، تاہم ان کے نام منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق الجزائر میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والی پہلی خاتون فاطمہ الزھرا عرجون کے شوہر فوج کے شعبہ طب میں کرنل کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ فاطمہ کے والد بھی میڈیکل ڈاکٹر ہیں، ان کے خاندان کے بیشتر افراد طب کے شعبے ہی سے وابستہ ہیں تاہم فاطمہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے مارکیٹنگ کے شعبے میں تعلیم کو ترجیح دی۔ پروفیسر عرجون کے ساتھ شادی کے بعد وہ کئی سال تک حصول تعلیم کے لیے فرانس میں مقیم رہی ہیں۔

سیاسی میدان میں بھی الجزائر کی خواتین کے لیے میدان نسبتا سہل ثابت ہوا۔ سابق وزیر اعظم عبدالملک سلال کی حکومت میں سات خواتین کو مختلف وزارتیں دی گئیں۔ الجزائر واحد عرب ملک ہے جس میں ایک خاتون صدارتی امیدوار کے طور پر قسمت آزمائی کر چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں