.

'بناوٹی خلیفہ' کویتی شاعرہ کے ہمراہ پھر نمودار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند روز قبل سعودی عرب میں عوام اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بننے والا ترک خلیفہ کی طرح لباس پہنے "بناوٹی سلطان" ایک مرتبہ پھر نمودار ہوا ہے۔ اب کی بار نمائشی 'بادشاہ ' اکیلے نہیں بلکہ کویتی شاعرہ نھا نبیل نے ان کے ساتھ فوٹو بنوایا ہے۔ میڈیا میں آنے والی تصویر سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ترک خلیفہ کے ہمراہ ان کی ایک چہتی بیوی کھڑی ہے۔

خیال رہے کہ خلیفہ کا لباس زیب تن کرنے والے یہ صاحب کوئی حقیقی شخصیت نہیں بلکہ وہ مکہ مکرمہ میں کعبۃ اللہ کی زیارت کے لیے داغستان سے آئے تھے۔ ان کے ملک میں عام طور پر شہری خلفاء کے لباس کو زیادہ قابل احترام خیال کرتے ہوئے اسے زیب تن کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ شائد ان کے اس حلیے کی بھی یہی وجہ ہے۔

کویتی شاعرہ اور صحافیہ نھا نبیل نے جعلی بادشاہ سلامت کے ساتھ بنوائی گئی اپنی تصویر سماجی رابطے کے فوٹو شیئرنگ فورم 'انسٹا گرام' پر بھی پوسٹ کی ہے جس پر مختصر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "یہ تصویر ترک ڈراموں میں اداکاری کے ذریعے بادشاہ اور اس کی ملکہ کی ڈرامائی تمثیل سے کافی مشابہت رکھتی ہے"۔

خیال رہے کہ یکم رمضان المبارک کو حرم مکی میں زائرین ترک سلطان کے لباس میں ملبوس ایک شخص کو دیکھ کر مبہوت رہ گئے تھے۔ بعض نے تو موصوف کو دولت اسلامیہ عراق وشام "داعش" کا خلیفہ سمجھ لیا تھا۔ لوگوں کی توجہ کا مرکز بننے والے اس غیر ملکی "درویش" بادشاہ کے بارے میں جب حرم کی پولیس کو پتا چلا تو انہوں نے اسے ڈھونڈ نکالا۔

اس کی حقیقت یہ سامنے آئی کہ وہ داغسنان سے تعلق رکھتا ہے اور عمرہ ادائی کے بعد اس نے اپنا عام لباس پہن لیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے منفرد لباس پہننے والے شہری سے کہا ہے کہ وہ ایسا لباس زیب تن کرنے سے گریز کریں جو لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کرنے باعث بنے۔ اس کے بعد معلوم نہیں ہو سکا کہ اس نے پولیس کی ہدایت پر لباس تبدیل کیا تھا یا نہیں البتہ وہ منظر سے غائب ہو گیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خلیفہ کے لباس میں ملبوس شخص کے ساتھ کویتی شاعرہ کی تصویر محض شاہانہ لباس زیب تن کرنے والوں کے ساتھ فوٹو بنوانا تھا، اس کےعلاوہ اس کا اور کوئی مقصد نہیں ہو سکتا۔

خیال رہے کہ حج اور عمرہ کے موسموں میں مکہ معظمہ میں غیر ملکی شہریوں کا رش بڑھ جاتا ہے۔ کسی بھی دوسرے علاقے یا خطے سے آئے لوگ اپنے مخصوص لباس سے فوری پہچان لیے جاتے ہیں تاہم لباس کی وجہ سے کوئی شخص کم ہی کسی کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔