.

داعش نے عراق میں قدیم روایتی کھیل پر پابندی لگا دی

'المحیبس' کو عراق میں قومی کھیل کا درجہ حاصل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام کے ایک بڑے حصے پر خلافت کا احیاء کی دعویدار عسکریت پسند تنظیم 'داعش' نے عراق میں ماہ صیام کے مقدس ایام میں کھیلے جانے والے روایتی کھیل 'المحیبس' [انگشتری] پر پابندی عاید کر دی ہے۔ یہ کھیل عراق کے طول وعرض کے علاوہ شام، اردن اور کئی دوسرے عرب ممالک میں بھی صدیوں سے کھیلا جاتا رہا ہے۔ عراق میں اسے قومی کھیل کی حیثیت حاصل ہے، جس میں مردوں کے علاوہ بچے اور خواتین حتیٰ کہ ایک ہی گھر میں موجود اہل خانہ بھی حصہ لیتے ہیں۔

برسوں سے عراق کی سماجی روایات کا حصہ سمجھے جانے والے اس کھیل کو 'المحیبس' کہا جاتا ہے۔ مقامی سطح پر اسے "بات" کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ 'المحیبس' محبس کا اسم تصغیر ہے جس سے مراد انگوٹھی لی جاتی ہے۔ چونکہ ماہ صیام روزہ داروں کو صبرو برادشت اور تحمل و برد باری کا درس دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کھیل میں حصہ لینے والوں کو کھیل کھیل میں بھی صبرو تحمل کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔

دوسرے معنوں میں یہ کھیل روزہ داروں کے صبر کا پیمانہ معلوم کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اس کھیل میں حصہ لینے والوں کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ ضبط نفس کا کس قدر مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کھیل میں حصہ لینے والوں سے آہنی عزم اور پہاڑ جیسے صبر کی توقع کی جاتی ہے۔ گو کہ کھیل میں دو افراد یا ٹیموں کے درمیان ایک انگشتری کے حصول کے لیے مقابلہ ہوتا ہے لیکن صبر آزما کھیل میں بعض مراحل ایسے بھی آتے ہیں جب بڑے بڑوں کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑتا ہے اور وہ ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھتے ہیں۔

کھیل کا طریقہ کار

عراق میں ہر سال ماہ صیام کے موقع پر لاکھوں افراد نہایت شوق کے ساتھ اس تفریح میں حصہ لیتے ہیں۔ محیبس کے کھیل کے دوران عموماً دو ٹیموں کے درمیان مقابلہ پورے ماہ صیام میں جاری رہتا ہے۔ 'المحیبس' کھیلنے کے شوقین افراد اپنی دو الگ الگ ٹیمین تشکیل دیتے ہیں۔ ایک ٹیم انگوٹھی چھپاتی اور دوسری اسے تلاش کرتی ہے۔ کھیل اس وقت شروع ہوتا ہے جب انگشتری کو متعین کردہ دائرے کے اندر راز داری کے ساتھ چھپا دیا جاتا ہے۔

دوسری ٹیم کو یہ انگشتری تلاش کرنا ہوتی ہے۔ باری باری تمام افراد انگشتری تلاش کرتے ہیں۔ اگر دوسری ٹیم انگوٹھی تلاش کر لے تو وہ جیت جاتی ہے۔ اگر ناکام رہے تو اس کا ایک 'نمبر' کم ہو جاتا ہے۔ ہارنے والی ٹیم جیتنے والوں کی شیرینی سے تواضع بھی کرتی ہے۔ یہ سلسلہ پورے ماہ جاری رہتا ہے اور آخر میں تمام پوائنٹس اسکورنگ کے مطابق جیتنے والی ٹیم کا اعلان کیا جاتا ہے۔ جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی اور دیگر انعامات بھی دیے جاتے ہیں۔

عراقی فنون لطیفہ کے ماہر باسم حودی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'المحیبس' کو قومی کھیل کا درجہ حاصل ہے۔ یہ کھیل شہروں، یونین کونسلوں اور قومی سطح پر کھیلا جاتا ہے۔ 'المحیبس' کے باقاعدہ چیمپیئن شپ مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں اور لوگ اس میں بڑے ذوق وشوق سے حصہ لیتے ہیں۔ باسم نے بتایا کہ کھیل میں حصہ لینے والے افراد کی تعداد متعین نہیں ہوتی۔ ہزاروں افراد بھی بہ یک وقت اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔ قومی سطح پر ہونے والے مقابلوں کو سرکاری ٹیلی ویژن پر کوریج دی جاتی ہے۔ اخبارات میں اس پر فیچرز شائع ہوتے ہیں اور کھیل میں بڑے بڑے نامور افراد حصہ لیتے ہیں۔ باسم حودی خود بھی اس کھیل کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ وہ عراق میں 'المحیبس' کے ایک لیجنڈ کھلاڑی کے طور پر ربع صدی تک چھائے رہے۔ اُنہیں نہایت پیچیدہ مقامات سے انگشتری تلاش کرنے میں ملکہ حاصل ہے اور مد مقابل کو پھنسانے کے لیے وہ انگشتری چھپانے میں بھی ید طولیٰ رکھتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں باسم حودی کا کہنا ہے کہ کھیل میں جتنے زیادہ لوگ شامل ہوں گےاس میں دلچسپی اتنی ہی زیادہ ہو گی تاہم اس میں اصل امتحان دونوں ٹیموں کے کپتانوں کا ہوتا ہے۔

جہاں تک 'داعش' کی جانب سے اس کھیل کی مخالفت کا سوال ہے تو اس باب میں بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ تنظیم کے جنگجو بھلے میدان جنگ میں مخالفین کے کشتوں کے پشتے لگا دیں لیکن وہ سماجی روایات سے نابلد ہیں۔ وہ تفریح جیسے مشغلوں اور کھیل تماشے اس لیے بھی مخالف ہیں کہ یہ انہیں کھلینا نہیں آتے۔

داعش کے زیر کنٹرول عراقی شہر موصل میں"ایلڈر کونسل" کے رکن سلیم عبدالرحمان الطائی کا کہنا ہے کہ یکم رمضان المبارک کو داعش کی جانب سے مساجد میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے جن میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ 'المحیبس' جیسے کھیل سے توبہ کریں۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ وارننگ کے باوجود اگر کوئی شخص "محیبس" کھیلتے پکڑا گیا تو اسے شریعت کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔