.

مالکی اقتدار کے نشے میں 'احسان فراموشی' پر اتر آئے

کردوں نے نوری المالکی کو صدام حسین سے بچانے کے لئے 'پناہ' دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں وزیر اعظم نوری المالکی اور وفاق سے علاحدگی کے لیے سرگرم کردستان کی قیادت کے مابین حالیہ ایام میں تند وتلخ الفاظ میں ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

وزیر اعظم المالکی نے اپنے ایک بیان میں کردستان کو "دہشت گردوں" اور مصلوب صدر صدام حسین کی کالعدم بعث پارٹی کا "گڑھ" قرار دیا، لیکن نوری المالکی خود یہ بھول گئے صدام حسین کے دور میں جب انہیں اشتہاری قرار دیا گیا تھا تو اسی کردستان میں انہیں جائے اماں ملی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے صدام حسین کے دور میں کردستان میں سیاسی پناہ گزین کی حیثیت سے نوری المالکی کی تصاویر حاصل کی ہیں۔ عراق کے سیاہ وسفید کے مالک نوری المالکی کی زندگی کا گھیرا نوے کی دہائی میں تنگ ہو گیا تو انہیں انہی کُردوں نے اپنے ہاں پناہ دی جنہیں آج المالکی دہشت گردوں کے ساتھی قرار دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ دو روز قبل وزیر اعظم نوری المالکی نے کردستان کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ کردستان دہشت گردی کا گڑھ اور بعث پارٹی کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ ان کے اس بیان پر عراق کے زیر انتظام نیم خود مختار علاقے کردستان کے سربراہ مسعود بارزانی کے ترجمان اومید صباح نے تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک انگریزی بیان میں کہا کہ "نوری المالکی ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔ ان کی کوئی بات ہوش وحواس میں نہیں ہوتی، پاگل پن کا مظاہرہ کرنے والے المالکی اقتدار چھوڑ دیں"۔

ترجمان نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نوری المالکی ہسٹیریا کا شکار ہیں۔ وہ اپنے ہر غلط اقدام کی ذمہ داری دوسروں پر تھوپنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ملک کا انتظام و انصرام اب ان کے بس کی بات نہیں رہی کیونکہ وہ انتظامی طور پر مکمل طور پر نااہل ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ اربیل [کردستان کا دارالحکومت] ہر دور میں مظلوم لوگوں کے لیے جائے پناہ ثابت ہوا ہے۔

امید صباح کے اس بیان میں وزیر اعظم نوری المالکی کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ جب سنہ 1991ء میں صدام دور کی ایک عراقی عدالت نے مسٹر المالکی کو اشتہاری قرار دیا تو انہوں نے فرار ہو کر کردستان ہی میں جان بچائی تھی۔ نوری المالکی کو یہ پیغام دینے کے لیے گذشتہ روز کردستان کے اخبارات نے سنہ 1991ء میں ان کی بغداد بدری کے دور کی تصاویر شائع کی ہیں۔ اخبارات نے تصاویر کے ساتھ مفصل رپورٹس بھی شائع کیں، جن میں کہا گیا کہ جب صدام حسین کی پولیس نے نوری المالکی کا تعاقب کیا تو کرد قیادت نے انہیں اپنے ہاں سیاسی پناہ حاصل کی تھی۔