غزہ کوریج :رشیا ٹوڈے کی پیش کار کی امریکی میڈیا پر تنقید

فلسطینیوں کے پاس دو ہی راستے ہیں،ہتھیار ڈال دیں یا مزاحمت کریں:ایبی مارٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی اور مغربی میڈیا غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے جارحانہ فضائی حملوں میں فلسطینیوں کی شہادتوں اور تباہ کاریوں کی کس طرح پردہ پوشی کررہا ہے یا اسرائیلی جارحیت کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے،اس کا اندازہ ان کی کوریج دیکھ کر بخوبی کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی اس پیشہ ورانہ بددیانتی پر سب خاموش نہیں ہیں۔رشیا ٹوڈے کی واشنگٹن میں موجود پیش کار ایبی مارٹن براہ راست نشریات کے دوران امریکا اور امریکی میڈیا پر برس پڑی ہیں۔

ایبی مارٹن نے امریکا کی جانب سے اسرائیلی جارحیت کی مسلسل حمایت کی آن ائیر مخالفت کی ہے اور وہ اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے بالکل بھی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''اس وقت مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں کے پاس دو ہی انتخاب رہ گئے ہیں: وہ مکمل طور پر ہتھیار ڈال دیں یا مزاحمت کریں۔اس وقت ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں ،یہ مزاحمت ہی ہے''۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''مجھے فلسطینی دوستوں سے ہمدردی ہے کیونکہ اسرائیل جب کبھی دنیا کی اس کھلی جیل (غزہ کی پٹی) میں رہنے والے بے گناہ لوگوں کے خلاف جارحانہ حملے کرتا ہے تو وہ ہرمرتبہ اپنے دوستوں اور خاندانوں سے محروم ہوجاتے ہیں''۔

امریکی میڈیا کی فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی جارحیت کی متعصبانہ کوریج کا یہ عالم ہے کہ ایک مقبول امریکی چینل اے بی سی نیوز نے اپنی بدھ کی نشریات میں جنگی طیاروں کی بمباری سے بے گھر ہونے والے فلسطینی خاندان کو اسرائیلی بنا دیا تھا اور پھر سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد اس کو اس فاش غلطی پر معذرت کرنا پڑی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں