مراکشی قاریہ کی 'العربیہ' کے پروگرام میں شرکت

خوش الحان ھاجر بوساق قرآت کے کئی عالمی مقابلے جیت چکی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

قرآت کی دنیا میں عموماً مرد قراء حضرات ہی چھائے رہتے ہیں لیکن مسلم دنیا میں اس الہامی کتاب کی قرآت کی ماہر اور خوش الحان خواتین قاریات کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔

عرب ممالک سے تعلق رکھنے والی شہرہ آفاق خواتین قاریات کے کئی نام پیش کیے جا سکتے ہیں۔ مراکشی ھاجر بوساق بھی انہی خوش الحان قاریات میں شامل ہیں جنہوں نے کم عمری میں ہی قرآت کے میدان میں اپنی شناخت منوائی۔

ماہ صیام کے دوران پیش کیے جانے والے 'العربیہ' نیوز چینل کے فلیگ شپ پروگرام "ورتل القرآن" میں ھاجر بوساق کو پہلی بار مدعو کیا گیا۔ عموما اس نوعیت کے پروگرام میں مرد قراء ہی کو زیادہ موقع دیا جاتا ہے، تاہم 'العربیہ' نے اس روایت کو توڑتے ہوئے خواتین قاریات کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں بھی رمضان کے خصوصی پروگرام میں مدعو کیا۔

سعودی عرب کے معیاری وقت کے مطابق یہ پروگرام شام ساڑھے پانچ بجے پہلی بار نشر کیا جاتا ہے جبکہ معمول کی نشریات میں اس پروگرام کو نشر مکرر کے طور پر بھی شامل کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ناظرین شام ساڑھے ساتھ بجے یہ پروگرام دیکھ سکتے ہیں۔

پروگرام "ورتل القرآن" میں گفتگو کے دوران مراکشی قاریہ نے فنون قرآت اور مختلف لہجوں میں تلاوت کلام پاک پر اپنی ماہرانہ رائے دینے کے ساتھ اپنی کلام پاک کی خوش الحان تلاوت سے سماں باندھ دیا۔

بائیس سالہ ھاجر بوساق مراکش کے دارالحکومت رباط کے نواحی علاقے 'تمارہ' سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے والدہ کی خواہش پر نہایت کم عمری میں قرآن کریم حفظ کیا۔ قرآت اور تجوید کی تعلیم کے لیے مراکش کے الشیخ محمد الاسلمی جیسے نامور استاتذہ سے اکستاب فیض کیا۔

حفظ قرآن کریم کی اپنی خوش الحانی آواز میں تلاوت کی بدولت ھاجر عوام الناس کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ تلاوت قرآن کے اس شوق نے ھاجر کے لیے دوسرے ممالک اور بڑے بڑے تعلیمی اداروں کے دروازے بھی کھول دیے۔ اب وہ حسن قرآت کے کئی عالمی مقابلوں میں بھی بھرپور شرکت کرتی ہے۔

ھاجر عرب و عجم کے کئی ممالک میں مقابلہ حسن قرآت میں حصہ لے کر کئی اعزازت اپنے نام کر چکی ہیں۔ گذشتہ برس ملائیشیا میں حسن قرآت کے ایک مقابلے میں ھاجر بوساق نے پہلی پوزیشن حاصل کرکے اسلامی دنیا کی خواتین قاریات کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ ملائیشیا میں مقابلہ حسن قرآت میں اول آنے کے بعد مراکشی فرمانروا شاہ محمد ششم نے ھاجر کو تہیتی پیغام اور تحائف ارسال کیے تھے۔ اس سے قبل یہ مقابلہ مراکش ہی کی قاریہ حسناء خولانی نے جیت رکھا ہے۔

العربیہ کے پروگرام "ورتل القرآن" کے میزبان محمد الھادی الحناشی نے ھاجر بوساق کے آبائی شہر تمارہ میں اس کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ الحناشی عرب ممالک کے قرآء کرام سے ملاقاتوں کے لیے ان کے ملکوں کے سفر میں رہتے ہیں۔ بعض قرآء کرام خود بھی اسٹوڈیو میں تشریف لاتے ہیں۔

خیال رہے کہ محمد الھادی الحناشی کی میزبانی میں نشر ہونے والے پروگرام "ترتیل قرآن" کا مقصد فرد اور معاشرے میں قرآنی اقدار کے فروغ، کلام اللہ کی تاثیر، حفظ قران اور قرآن پاک کے درست ہجے میں تلاوت کے کلچر کو عام کرنا ہے۔ 'العربیہ' کی اسکرین پر یہ سلسلہ وار پروگرام گذشتہ برس اور اس سے پیوستہ ماہ صیام کے دوران مصر، سعودی عرب، مراکش، کویت، یمن، لبنان، بحرین، اردن، سودان، عراق، شام اور کئی دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے 55 قراء کرام کو مدعو کیا گیا تھا۔

اسی ترتیب کے مطابق امسال بھی پچپن قراء حضرات اپنے تجربات دنیا بھر کے ناظرین کو دلوں کو قرآن کے نور سے منور کریں گے۔ تلاوت کلام پاک کے حوالے سے مصری، حجازی، مراکشی مدارس کے مخصوص طرق ہائے تلاوت سے بھی عوام الناس کو آگاہ کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں