.

اردن: شامی بچیوں کی شادیوں کی شرح میں دُگنا اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن میں مقیم شامی مہاجر بچیوں کی اوائل عمری میں شادیوں کی شرح میں دگنا اضافہ ہو گیا ہے اور مہاجر والدین غربت اور جنسی تشدد کے ڈر سے اپنی کم عمر بچیوں کے ان سے زیادہ عمر کے مردوں کے ساتھ ہاتھ پیلے کررہے ہیں۔

بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ''سیو دا چلڈرن'' نے بدھ کو ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا ہے کہ شام میں 2011ء میں موجودہ تنازعے کے آغاز سے قبل بچوں کی شادیوں کی شرح تمام شادیوں میں تیرہ فی صد تھی لیکن اردن میں مقیم شامی مہاجر لڑکیوں کی اوائل عمری یا جبری شادیوں کی شرح میں دُگنا اضافہ ہوچکا ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے 48 فی صد کو ان سے عمر میں دس سال تک بڑے مردوں کے ساتھ بیاہ دیا گیا ہے۔اردن میں سیو دا چلڈرن کی کنٹری ڈائریکٹر صبا لمبصلاط کا کہنا ہے کہ ''ان لڑکیوں کے لیے بچپنے کی شادیاں بہت ہی تباہ کن ہوسکتی ہیں''۔

ان کا کہنا ہے کہ ''اٹھارہ سال سے کم عمر شادی شدہ لڑکیوں کو اپنی سے بڑی عمر کی لڑکیوں کے مقابلے میں گھریلو تشدد کا سامنا ہوسکتا ہے،انھیں جنسی اور تولیدی صحت تک محدود رسائی ہوتی ہے ،اس لیے وہ جب حاملہ ہوں گی تو نوعمری کی وجہ سے خطرات سے دوچار ہوسکتی ہیں اور وہ موت کے منہ میں بھی جاسکتی ہیں''۔

اقوام متحدہ کے تحت عالمی ادارہ اطفال یونیسیف کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق اردن میں مقیم شامی مہاجرین کے ہاں 2012ء میں بچوں کی شادیوں کی شرح 18 فی صد تھی اور یہ شرح 2013ء میں بڑھ کر 25 فی صد ہوچکی تھی۔2014ء کے پہلی سہ ماہی میں یہ شرح مزید بڑھ کر 32 فی صد ہوگئی ہے۔

اردن میں اس وقت چھے لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین مقیم ہیں۔اردنی حکومت نے عدالت کی منظوری سے اٹھارہ سال سے کم عمرشامی لڑکیوں کی شادی کی اجازت دے رکھی ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2013ء میں 735 شامی لڑکیوں کی شادیوں کا اندراج کیا گیا تھا جبکہ 2011ء میں صرف 42 شادیاں رجسٹر کی گئی تھیں۔

سیو دا چلڈرن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ شامی مہاجرین کو محدود معاشی وسائل پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنی بچیوں کے حوالے سے درپیش مسائل سے بھِی آگاہ ہیں کہ انھیں کیسے جنسی تشدد کے خطرے سے بچانا ہے۔اس صورت حال میں بعض خاندان اوائل عمری کی شادی ہی کو بچیوں کے تحفظ کا بہتر ذریعہ خیال کرتے ہیں اور اس طرح ان کے سر سے بیٹی کی شادی کا بوجھ بھی اتر جاتا ہے''۔