.

غزہ پر جارحیت، صہیونیوں کا بے پایاں خوشی کا اظہار

صہیونی تفریحی کیمپ لگائے فلسطینیوں پرمیزائل حملوں کا نظارہ کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں پیدا ہونے والے ہر یہودی بچے کو بچپن ہی سے فلسطینیوں اور عربوں سے نفرت سکھائی جاتی ہے، گھر کے ماحول اور تعلیمی اداروں میں فلسطینیوں سے نفرت کے اسی ماحول میں وہ پل بڑھ کر جوان ہوتے ہیں اور یوں یہ نفرت ان کے انگ انگ میں رچ بس چکی ہوتی ہے۔

پھر اسی نفرت کا ایک اظہار ان کی ان نہتے فلسطینیوں پر ننگی فوجی جارحیت کی صورت میں ہوتا ہے۔ ان میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی اور جب کبھی صہیونی فوج غزہ یا غرب اردن کے مکین فلسطینیوں پر فضا سے بارود برساتی، ٹینکوں سے گولے یا میزائل داغتی ہے تو انھیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اس سے کتنے انسان مریں گے اور نہ وہ ان کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں کی اموات پر کوئی کفِ افسوس ملتے ہیں بلکہ وہ اپنی بے پایاں خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کے دشمن موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔

یہودیوں کے زیر اثر مغربی میڈیا کے ذرائع اسرائیلی مظالم کا شکار ہونے والے فلسطینیوں کی حقیقی تصویر تو سامنے نہیں لاتے ہیں لیکن کبھی کبھی ان مغربی میڈیا ذرائع سے کوئی ایک آدھ رپورٹ سامنے آ ہی جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک رپورٹ امریکی نشریاتی ادارے کیبل نیوز نیٹ ورک (سی این این) نے جمعرات کو نشر کی ہے جس میں غزہ پر میزائل حملوں کا نظارہ کرنے والے یہودیوں کو سرحدی علاقے میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

غزہ پر اسرائیلی فوج کے میزائل حملوں اور طیاروں کی بمباری کا نظارہ کرنے کے لیے یہودی اسرائیل اور غزہ کی سرحد کے نزدیک واقع پہاڑی پر پکنک منانے کے سے انداز میں کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ سی این این کی بین الاقوامی نمائندہ ڈیانا میگنے وہیں سے رپورٹ کر رہی ہیں۔ ہر مرتبہ جب اسرائیلی میزائل غزہ کو نشانہ بناتا ہے تو یہ یہودی خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں اور داد وتحسین کے ڈونگرے برسانے شروع کر دیتے ہیں۔

میگنے اپنی رپورٹ میں بتا رہی ہیں: ''آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں بہت سے اسرائیلی جمع ہیں اور وہ جب اسرائیلی حملوں کو دیکھتے ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے''۔ اس کے چند منٹ کے اس رپورٹر نے ٹویٹ کیا:''سدیروت کی پہاڑی پر بیٹھے اسرائیلی جونہی غزہ پر بم گرتا ہے تو خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ انھوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر میں نے کوئی غلط لفظ کہا تو تباہ کردی جاؤں گی۔ تاہم بیس منٹ کے بعد اس رپورٹر کی اس پوسٹ کو حذف کر دیا گیا تھا۔

اسی ہفتے ایک ڈینش صحافی نے سدیروت میں پہاڑی پر کرسیاں لگائے بیٹھے یہودیوں کی ایک تصویر پوسٹ کی تھی جس میں غزہ کی پٹی پر میزائل گرنے کے بعد ان کے چہرے خوشی سے کھلکھلا رہے ہیں۔اس تصویر کو سات ہزار مرتبہ ری ٹویٹ کیا گیا تھا۔اس کے بعد ایک مضمون میں اس تصویر کی یوں وضاحت کی گئی تھی کہ لوگ تفریحی کیمپ کی شکل میں کرسیاں لگائے بیٹھے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو مکئی کے بھنے ہوئے دانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور بعض حقے کے کش لگا کر محظوظ ہورہے ہیں اور ساتھ جنگ کا نظارہ کر رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے انہی یہودیوں کے تحفظ کے لیے آپریشن دفاعی کنارہ کے نام سے منگل 8 جولائی کو غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف اس ننگی جارحیت کا آغاز کیا تھا۔اس دوران اس کے فضائی، زمینی اور بحری حملوں میں 260 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

صہیونی فوج نے غزہ سے اسرائیل کی جانب فائر کیے جانے والے راکٹوں کو روکنے کے لیے یہ جنگ شروع کی تھی لیکن اپنے خلاف فوجی طاقت کے بے مہابا استعمال کے باوجود فلسطینی مزاحمت کاروں نے یہ راکٹ حملے نہیں روکے ہیں۔تاہم اب تک ان کے راکٹ حملوں میں صرف دو یہودی مارے گئے ہیں۔ان میں ایک اسرائیلی فوجی ہے۔