فلسطینی مندوب یو این میں خطاب کرتے ہوئے رو دیے

"دفاع کے حق کو بہانہ بنا کر فلسطینیوں کا صفایا کیا جا رہا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ میں فلسطین کے مندوب ریاض منصور سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں غزہ کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرط جذبات سے رو دیے۔

العربیہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق ریاض مںصور نے غزہ پر اسرائیلی حملے کو بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں اپنی بات جاری رکھتے ہوئے استفسار کیا: "اپنے دفاع کا یہ کیسا حق ہے کہ جو اہالیاں غزہ کو صفحہ ہستی سے مٹا کر پورا کیا جا رہا ہے؟"

انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے اور غزہ میں اسرائیلی جنگی یجرائم پر صہیونی مملکت کا کڑا محاسبہ کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے معاون سیاسی امور جیفری فلٹمن نے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز بین کی مون غزہ کے بحران کا حل تلاش کرنے کے لئے مشرق وسطی کا دورہ شروع کر رہے ہیں۔

اردن کی درخواست پر منعقد ہونے والے سیکیورٹی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے فلٹمن نے کہا کہ "اپنے دورہ مشرق وسطی کے ذریعے عالمی ادارے کے سربراہ 'فلسطینیوں اور اسرائیل سے اظہار یکجہتی' کرنا چاہتے ہیں۔"

بعد ازاں سیکیورٹی کونسل اجلاس سے اپنے خطاب میں اسرائیلی نمائندے نے غزہ سے اسرائیل پر میزائل فائرنگ اور سرنگوں کے ذریعے مبینہ دراندازی کی کوششوں کا ذکر کیا۔

درایں اثنا نیویارک میں 'العربیہ' کے نمائندے نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ ابھی تک سیکیورٹی کونسل کے اجلاس سے متعلق میڈیا کو جاری ہونے والے بیان کے مسودے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں کسی فیصلہ کن قرارداد منظوری کی توقع نہیں ہے اور اگر کوئی ایسی قرارداد منظور ہوتی ہے تو ماضی کے تجربات سامنے رکھتے ہوئے اسرائیل اس کی پاسداری نہیں کرے گا۔

اپنے مراسلے میں العربیہ کے نامہ نگار کا مزید کہنا تھا کہ امریکی دباو کے بغیر اسرائیل غزہ پر اپنا زمینی حملہ اس وقت تک ختم نہیں کرے گا جب تک یہ فیصلہ اس کے اپنے حق میں مفید نہ ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں