.

ابوبکرالبغدادی کی خلافت غیرشرعی اور غیرقانونی قرار

عیسائیوں کو دھمکیوں سے تہذیب کا خاتمہ ہوجائے گا:مفتیِ اعظم ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی سب سے بڑی مذہبی اتھارٹی کے سربراہ نے عراق اور شام میں برسرپیکار اسلامی جنگجوؤں کی جانب سے خلافت کے قیام کے اعلان کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ خلافت شرعی جواز کی حامل نہیں ہے اور ان جنگجوؤں کی جانب سے عیسائیوں کو قتل کرنے کی دھمکیوں سے تہذیب کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

القاعدہ سے نظریاتی ہم آہنگ جنگجو جماعت دولت اسلامی (داعش) نے عراق کے پانچ صوبوں اور شام کے قریباً پینتیس فی صد علاقے پر قبضہ کررکھا ہے اور اس نے گذشتہ ماہ اپنے زیرنگیں علاقوں میں خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا اور اپنے سربراہ ابوبکر البغدادی کو خلیفہ قرار دیا تھا۔

ترکی کی نظامت برائے مذہبی امور کے سربراہ محمد گورمیز نے کہا ہے کہ ''اس طرح کے اعلانات کی کوئی قانونی اور شرعی حیثیت حاصل نہیں ہے''۔ واضح رہے کہ نظامت ترکی کی اعلیٰ مذہبی اتھارٹی ہے۔

علامہ گورمیز نے کہا کہ ''خلافت کا خاتمہ ہونے کے بعد خلافت کے قیام کے لیے بہت سے تحریکیں چلائی گئیں ، جن کا یہ خیال تھا کہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو پھر سے مجتمع کرسکتی ہیں لیکن ان کا سیاسی یا قانونی پہلو سے حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا''۔

انھوں نے رائیٹرز کے ساتھ ایک انٹَرویو میں کہا ہے کہ داعش کی جانب سے غیر مسلموں کو موت کی دھمکیاں بہت ہی ضرررساں ہیں۔عیسائیوں کے خلاف بیانات بہت ہی افسوس ناک ہیں۔اسلامی دانشوروں کو اس طرف توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دوسرے عقیدوں اور ثقافتوں کے پیروکار لوگوں کے لیے پرامن طور پر رہنے کے امکانات مسدود ہونے سے تہذیب کا زوال ہوجائے گا۔وہ عراق کے شمالی شہر موصل میں صدیوں سے مقیم عیسائیوں کو داعش کی جانب سے اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں قتل کی دھمکیوں کا حوالہ دے رہے تھے۔

واضح رہے کہ جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال پاشا نے سنہ 1924ء میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کردیا تھا اور اس وقت خلافت کے شیخ الاسلام کے عہدہ اور ادارہ کو بھی ختم کردیا تھا اور اس کی جگہ نظامت مذہبی امور کا ادارہ قائم کیا گیا تھا۔اب علامہ گورمیز اسی ادارے کے سربراہ ہیں اور انھوں نے ابوبکر البغدادی کے دعویٰ خلافت کے حوالے سے درست طور پر سوال اٹھایا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جدید دور میں ان کے ادارے کا کام کرنے کا طریق کار تبدیل ہوچکا ہے لیکن اس کی تاریخی نسبت باقی ہے۔ان کا ادارہ ترکی بھر کی پچاسی ہزار مساجد کے لیے جمعہ کے ہفتہ وار خطبات کا مسودہ تیار کرتا ہے اور ان مساجد کے ائمہ یہی خطبہ جمعہ پر پڑھتے ہیں۔ان ائمہ اور مبلغین کے تقرر اور تربیت کا ذمے دار بھی یہی ادارہ ہے۔

علامہ گورمیز کا کہنا تھا کہ اہل مغرب خلافت کو غلط طور پر ایک مذہبی اتھارٹی خیال کرتے ہیں اور وہ اس کو پاپائیت ہی کی طرح سمجھتے ہیں لیکن تاریخی طور پر خلیفہ ایک سیاسی اتھارٹی ہے جو قانونی اور شرعی احکامات کو تسلیم کرتا اور ان کا نفاذ کرتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلمان اب ایک ہی حکمران کے زیرنگیں اکٹھے نہیں رہ سکتے ہیں۔البتہ وہ یورپی یونین کی طرح کا سیاسی بلاک بنا سکتے ہیں اور اپنی مشترکہ جمہوری اقدار کے مطابق اس کے تحت اکٹھے رہ سکتے ہیں۔

انھوں نے عراق اور شام میں جاری خانہ جنگی کو محض شیعہ اور سنی کے درمیان لڑائی کا شاخسانہ قرار نہیں دیا بلکہ ان کا کہنا تھا کہ اس کی سیاسی اور معاشی وجوہ ہیں اور گذشتہ ایک صدی کے قبضے کے دوران آمرانہ حکومتوں نے ان کی شناخت کو مسخ کر دیا تھا۔ اب لوگ مذہب کو جواز بنا کر اپنے غیظ وغضب کا اظہار کررہے ہیں۔

ترکی کی مذہبی اتھارٹی کے سربراہ نے کہا کہ مغرب اس دہشت گردی اور تشدد کی جڑیں مذہب میں ڈھونڈ رہا ہے لیکن یہ قرونِ وسطیٰ کے دور کی جنگیں نہیں ہیں اور وہ حقیقی معنوں میں فرقہ وارانہ نوعیت کی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں روزانہ اوسطاً ایک ہزار مسلمان مختلف داخلی مسائل کی بنا پر مار دیے جاتے ہیں لیکن ان میں سے نوّے فی صد دوسرے مسلمانوں ،اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔