اوباما ایک رات غزہ کے اسپتال میں گذاریں: نارویجن طبیب

امریکی صدر کچھ دیر غزہ آ جائیں تو ان کی آنکھیں کھل جائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنگ سے تباہ حال فلسطینی شہر غزہ کی پٹی میں رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دینے والے ناروے کے ایک ڈاکٹر نے امریکی صدر باراک اوباما کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے امریکی صدر کو ایک رات غزہ کے الشفاء میڈیکل کمپلیکس میں گذارنے کی دعوت دی ہے۔ نارویجن ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ امریکی صدر صرف ایک رات کے لیے غزہ کے اسپتال میں آ جائیں تو وہ غزہ کے بارے میں اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نارویجن ڈاکٹر نے جنگ سے متاثرہ غزہ کی پٹی مین طبی سہولیات کے فقدان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حملے سے قبل بھی غزہ کے استپالوں میں علاج معالجے کی کوئی قابل ذکر سہولت نہیں تھی، جنگ نے زخمیوں، مریضوں اور متاثرین کے مسائل مزید دو چند کر دیے ہیں۔ اسپتالوں میں ادویہ اور جگہ کی قلت پڑ چکی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے حسب روایت غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کشی کا ملبہ فلسطینی مزاحمت کاروں پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ وہ ابھی تک اسرائیلی حملے کی مذمت کرنے سے قاصر ہیں تاہم فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں پر انہیں گہری تشویش ہے۔ اس تشویش کا اظہار انہوں نے حال ہی میں مسلم ممالک کے سفیروں کے ایک افطار ڈنر سے خطاب میں یہ کہہ کیا کہ"فلسطینیوں کے اسرائیل پر راکٹ حملے ناقابل برداشت ہیں"۔

خیال رہے کہ آٹھ جولائی سے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے فضائی اور زمینی حملوں میں چھ سو سے زائد افراد شہید اور چار ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ مسلسل ناکہ بندی کے باعث غزہ کے اسپتالوں میں زخمیوں کے علاج کے لیے خاطر خواہ سہولیات میسر نہیں ہیں۔ اسرائیلی فوج اسپتالوں کو بھی بمباری کا نشانہ بنا رہی ہے جس کے بعد طبی شعبے میں والے ملکی رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دینے اور غیر ملکی ڈاکٹربھی خوف کا شکار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں