.

داعش کا عراق میں لڑکیوں اور خواتین کے ختنوں کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ سے متاثر جنگجو جماعت دولت اسلامی (داعش) نے عراق کے شمالی شہر موصل اور اس کے نواح میں رہنے والی گیارہ سے چھیالیس سال کے درمیان عمر کی تمام لڑکیوں اور خواتین کے ختنوں کا حکم دیا ہے۔

عراق میں اقوام متحدہ کی نائب نمائندہ ژاکولین بیڈ کاک نے جمعرات کو داعش کے اس حکم کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ ''یہ ایک فتویٰ ہے اور ہمیں آج صبح اس کا پتا چلا ہے''۔

انھوں نے عراقی کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل سے جنیوا میں ویڈیو لنک کے ذریعے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ''فتوے'' سے قریباً چالیس لاکھ لڑکیاں اور خواتین متاثر ہوں گی۔

انھوں نے کہا کہ ''عراق کے لیے یہ بالکل ایک نئی چیز ہے۔خاص طور پر اس علاقے کے لیے یہ ایک گہری تشویش کا معاملہ ہے اور اس کو حل کیا جانا چاہیے۔یہ عراقی عوام کی مرضی کے مطابق نہیں ہے اور دہشت گردوں کے کنٹرول والے علاقوں میں مقیم خواتین بھِی اس کے حق میں نہیں ہیں''۔

دولت اسلامی کے کسی ترجمان یا اس کی جانب سے کسی اور ذمے دار نے فوری طور پر اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے کہ آیا انھوں نے واقعی کوئی ایسا فتویٰ جاری کیا ہے۔واضح رہے کہ مصر کے بعض علاقوں میں صدیوں سے خواتین کے ختنوں کی روایت چلی آرہی ہے لیکن عراق میں ایسی کسی روایت پر عمل پیرا ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

دولت اسلامی کے جنگجوؤں نے عراق کے پانچ شمالی اور شمال مغربی صوبوں کے بیشتر علاقوں پرقبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے اور اب وہ آہستہ آہستہ اپنے زیرنگیں علاقوں میں کنٹرول مضبوط بنانے کے لیے اپنے نظریہ حکومت کے مطابق احکامات جاری کررہے ہیں۔