.

شہید فلسطینی بچوں کے نام والے اشتہار پر اسرائیل میں پابندی

'بتسلیم' نے اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کا فیصلہ عدالت میں چیلنج کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک سرکردہ تنظیم کی جانب سے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینی بچوں کے ناموں پر مبنی ریڈیو اشتہار پر پابندی لگا دی ہے۔

'رشیا ٹو ڈے' نیوز چینل کے مطابق فلسطینیوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے انسانی حقوق کے گروپ 'بتسلیم' کی جانب سے چلائے جانے والے اس اشتہار کو اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے "سیاسی طور پر متنازعہ" قرار دیا تھا۔ 'بتسلیم' اس اقدام سے خوش نہیں ہے اور اس نے اس پابندی کے خلاف اعلیٰ اسرائیلی عدالت میں درخواست جمع کروا دی ہے۔

انسانی حقوق گروپ نے عدالت میں جمع کروائی جانے والی اپیل میں کہا: "کیا یہ متنازعہ ہے کہ اشتہار میں مذکور بچے زندہ نہیں ہیں؟ کہ یہ بچے ہیں؟ کہ ان کے یہ نام ہیں؟ یہ حقائق ہیں جو کہ ہم عوام کے سامنے لانے کی خواہش رکھتے ہیں۔"

اب تک ایک ہزار سے زائد افراد غزہ پر اسرائیلی بمباری میں شہید ہو چکے ہیں جن میں سے 150 سے زائد بچے ہیں۔ مگر شہداء کی تعداد پر مبنی ایک چھوٹی سی رپورٹ کے علاوہ اسرائیلی میڈیا نے اس المیہ کی طرف دھیان دینا مناسب ہی نہیں سمجھا۔"

'بتسلیم' کا مزید کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کی رائے میں غزہ جنگ میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے بچوں کے نام نشر کرنا سیاسی طور پر متنازعہ ہے۔ اس بیان کا یہی مطلب ہے کہ غزہ کے شہریوں کی جانب سے جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے، ادا کی جانے والی قیمت پر پابندی لگادی جائے۔"

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ آپریشن دفاعی کنارہ کا مقصد حماس کی جانب سے استعمال کی جانیوالی سرنگیں ہیں جو کہ اسرائیلی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ مگر ان حملوں میں سے متعدد حملے شہری علاقوں اور اقوام متحدہ کے سکولوں پر کئے گئے ہیں۔ 'بتسلیم' کے اشتہار کو بعد میں سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹس پر بھی پوسٹ کر دیا گیا۔