.

لبنانی چینل کی موصل سے بےدخل عیسائیوں کے لیے مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے ایک ٹیلی ویژن چینل نے عراق کے شمالی شہر موصل پر جہادی گروپ دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں کے قبضے کے بعد راہ فرار اختیار کرنے والے عیسائیوں سے اظہار یک جہتی کے لیے مہم شروع کی ہے۔

لبنانی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن انٹرنیشنل (ایل بی سی آئی) کی اینکر دیما صادق نے روزانہ کی ادارتی بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ اس مہم کا عنوان ''ہم تمام لوگ موصل سے بیروت تک نون ہیں'' ہے۔''ن'' عربی حروف تہجی کا چودھواں حرف ہے اور یہ رومن حرف این کے مشابہ ہے۔ن سے مراد ''نصاریٰ'' ہیں۔واضح رہے کہ قرآن مجید میں عیسائیوں کو متعدد مقامات پر اس نام سے بھی پکارا گیا ہے۔

دولت اسلامی کے جنگجوؤں نے موصل میں عیسائیوں کے گھروں اور کاروباروں کی نشان دہی کے لیے یہی لفظ استعمال کیا تھا۔واضح رہے کہ موصل پر قبضے کے بعد داعش نے عیسائیوں کے سامنے تین شرائط رکھی تھیں اور ان سے کہا تھا کہ وہ اسلام قبول کر لیں ،جزیہ دیں یا پھر قتل ہونے کے لیے تیار ہوجائیں۔داعش کی اس دھمکی کے بعد ہزاروں عیسائی اپنا گھر بار چھوڑ کر موصل سے چلے گئے ہیں۔

ایل بی سی آئی کی مذکورہ اینکر نے کہا کہ ''ہم سب نون ہیں اور قبضے اور فرقہ واریت سے متاثر ہیں لیکن ہم قبضے اور فرقہ واریت کی دیواروں کو چُننے نہیں دیں گے''۔

ٹویٹر پر ''ہم سب نون ہیں''کے عنوان سے ہیش ٹیگ بنایا گیا ہے۔اس کے ساتھ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی تصاویر لگائی گئی ہیں اور ان کے جسموں پر عراقی عیسائیوں سے اظہار یک جہتی کے لیے سرخ رنگ میں نون کا نشان بنایا گیا ہے۔