گہری اسرائیلی حمایت: 'بی بی سی' کے خلاف لندن میں احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

یہ دہائیوں پر پھیلا ایک پیچیدہ بنا دیا گیا تنازعہ ہے جس کا بظاہر اتمام ہوتا نظر نہیں آتا ہے۔ ماسوا اس کے کہ عالمی ابلاغی ادارے دن بھر کے دوران اس بارے میں چند منٹوں پر مشتمل ایک مختصر اور جامع نوعیت کی خبر نشر کر دیتے ہیں۔

یہ غالبا ناگزیر ہے کہ جانبداری کے الزامات ہر بار اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ہونے والے ٹکرائو کے موقع پر سامنے آتے ہیں۔ جیسا کہ ابلاغی ادارے کوشش کرتے ہیں کہ مگر کئی بار ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس پس منظر میں اس جاری تصادم کی میڈیا کوریج کا تازہ ترین باب بھی مختلف نہیں ہے۔

ایک طرف دعوی ہے اور دوسری جانب رد دعوی ہے، پچھلے تین ہفتوں کے دوران یکطرفہ رپورٹنگ کا معاملہ کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات کے ساتھ ہے۔ اس کے خلاف سب سے زیادہ بلند آہنگ احتجاج لندن میں سامنے آیا۔ جہاں متعدد کارکنوں اور اساتذہ نے بی بی سی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے بارے میں اپنے دل میں گہری محبت اور طرفداری رکھتا ہے۔

مظاہرین کی بڑی تعداد نے 'بی بی سی' لندن میں قائم مرکزی دفاتر کے باہر 15 جولائی کو احتجاج بھی کیا۔ ایسے ہی احتجاج گلاسگو اور برسٹل میں کیے گئے۔

فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا رجحان رکھنے والے شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ 'بی بی سی' کی غزہ پر رپورٹس توازن سے عاری ہیں۔ نیز سیاق و سباق کے بغیر ہیں۔

اس رجحان کے حامل گروپ سے قربت رکھنے والے 14000 افراد نے آن لائن ایک پٹیشن بھی دائر کی ہے جس کا بنیادی نکتہ براڈ کاسٹرز سے اس اپیل پر مبنی ہے کہ غزہ پر مسلط کی گئی جنگ کے حوالے سے اپنی کوریج کو بہتر کریں۔

دوسری جانب 'بی بی سی' کا حریف، چینل فور بھی اسی نوعیت کی تنقید کی زد میں ہے۔ چینل فور پر اعتراض ہے کہ یہ فلسطینیوں کی حمایت کرتا ہے۔ ہینری جیکسن سوسائٹی کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ڈگلس مرے نے ''سپیکٹیٹر'' میں لکھا ہے "چینل فور مشرق وسطی کا یکطرفہ، غیر درست اور جانبدارانہ منظر پیش کرتا ہے۔"

'بی بی سی' اور 'چینل فور' دونوں اپنی اپنی جنگی کوریج کا دفاع کرتے ہیں۔ حتی کہ جب وہ اپنے اپنے خبری ماحاصل کا حوالہ دیتے ہیں تو دونوں کا فرق نظر آتا ہے۔ بدھ کے روز جبالیہ میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلائے جانے والے سکول پر اسرائیلی گولہ باری کی کوریج میں دونوں ابلاغی اداروں کا فرق صاف نظر آتا ہے۔

'بی بی سی' نے شام چھ بجے کے اپنے نیوز بلیٹن میں اسرائیل پر الزام عاید کرنے سے خود کو روکے رکھا، اس واقعے میں کم از کم 15 فلسطینیوں کی شہادت ہوئی تھی۔ جبالیہ میں 'بی بی سی' کے نمائندہ نے بہت آہستگی سے کہا اب ایک نئی بحث شروع ہو سکتی ہے جس میں بحث ہو گی کہ اس واقعے کا ذمہ دار کون ہے؟

بعد ازاں شام سات بجے 'چینل فور' کے بلیٹن میں کھلے انداز میں کہا گیا: "اسرائیل نے اقوام متحدہ کے زیر انتظام لڑکیوں کے سکول پر حملہ کیا ہے، جس کے بعد امکان ہے کہ اس پر جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلا یا جا سکے گا۔"

'بی بی سی' نے ایک قدم اور اٹھایا اور اسرائیلی فوج کے ترجمان کرنل پیٹر لرنر کا انٹرویو کیا، اس سے پہلے 15 سیکنڈ کے لیے سکول پر حملے پر مبنی رپورٹ پیش کی تاہم اہم ترین حیثیت اسرائیلی فوجی ترجمان کے انٹرویو کو ہی دی۔

فوجی ترجمان کے بقول "فلسطینی دہشت گردوں نے سکول کے بالکل منسلک جگہ سے مارٹر گولے فائر کیے تھے۔'' اس پر 'بی بی سی' نے اس اسرائیلی موقف کو بغیر سوال کے جانے دیا، تاہم بعد میں جبالیہ ایلمنٹری سکول کے نمائندے کا موقف رپورٹ کے آخر میں دے دیا جس میں اسرائیل کے ناجائز قبضے اور اسرائیلی دہشت گردی کا ذکر تھا۔

دوسری جانب 'چینل فور' نے اپنی کوریج میں فلسطینیوں کے نکتہ نظر بڑھا کر دیا۔ 'چینل فور' کی زبان واقعات کی شدت کو ظاہر کرنے والی تھی اس کے مقابلے میں 'بی بی سی' کی رپورٹ کا لب و لہجہ غیر جذباتی تھا۔

جبکہ 'چینل فور' نے 72 سیکنڈ تک اپنی رپورٹ کے اہم حصے میں اسرائیل کا موقف نہیں دیا ہے۔ اہم بات یہ رہی کہ 'چینل فور' کے اینکر نے حماس کے ترجمان اسامہ حمدان کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔

اس پر دوسری رائے نہیں کہ 'بی بی سی' اپنے ہاں غزہ کی خوفناک اور دل دہلانے والی فوٹیج دکھا رہا ہے۔ 'بی بی سی' اسرائیلی بمباری کے بعد کے خونی منظر دکھا رہا ہے، جس میں بڑا فوکس اسرائیل کی جارحیت یا ظلم کے زاویے سے نہیں بلکہ مجرد انسانی المیے کے حوالے سے ہے۔

اس بارے میں ایک ابلاغی ماہر کا کہنا ہے کہ ''یہ بی بی سی کا ایک روایتی اور سکہ بند قسم کا اسلوب ہے کہ وہ یہ خونی منظر دکھاتا ہے، فلسطینیوں کو پریشان دکھاتا ہے اور اس کے بعد اسرائیلی خیالات کو پیش کر دیتا ہے۔"

پروفیسر گریگ فیلو کے مطابق مشرق وسطی کے اس تصادم کی میڈیا کوریج کے حوالے سے یہ بھی کہا "بی بی سی غزہ کے حوالے سے زیر قبضہ اور زیر جارحی رہنے والے فلسطینیوں کا نکتہ نظر اجاگر کرنے سے ہچکچاتا ہے، ہر کوئی تو آگاہ ہے کہ اس نے اسرائیل پر تنقید کر دی تو آسمان اسی پر آ کر گرے گا۔"

فیلو کا کہنا ہے ایک مرتبہ 'بی بی سی' میں ادارتی ذمہ داری پر موجود برطانوی نے کہا "ہمیں تصادم کے بارے میں رپورٹ کرتے ہوئے اسرائیل کی فون کال کا خوف ہوتا ہے، لیکن یہ مسئلہ نہیں ہوتا کہ آپ فلسطینیوں کے بارے میں کیا کہتے ہو۔''

اسرائیل کی ایک شناخت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے حق میں لابنگ پر بھاری رقوم خرچ کرتا ہے وہ منظم بھی ہے اور اس کی ہاتھ کی صفائی بھی کمال ہے۔ لیکن فیلو کا کہنا تھا ''یہ ہر گز ایسی وجوہات نہیں ہیں کہ میڈیا اپنا کام درست انداز میں نہ کرے۔"

لیکن اس کے مقابلے میں ایسی معلومات دستیاب نہیں ہیں کہ فلسطینیوں نے خود کو منظم کرنے کی کوشش کی ہے، پروفیسر فیلو نے کہا "یہ بھی حقیقت ہے کہ بی بی سی حکومتی ادارہ ہے اور اس کی حکومت کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔"

فلسطینیوں کے لیے یکجہتی کی مہم کی امینہ سلیم کا کہنا ہے کہ بی بی سی غزہ کی کوریج میں ناکام ہو رہا ہے کیونکہ یہ فلسطینیوں کو ایک جارح کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ دنیا کو یہ نہیں بتاتا کہ اسرائیل نے ناجائز طور قبضہ جما رکھا ہے۔ بی بی سی یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملہ محض حماس کے جواب میں کیا جاتا ہے۔"

'بی بی سی' کے ایک ترجمان نے اس حوالے سے بی بی سی کا دفاع کیا "ہمارا کردار واقعات کو رپورٹ کرنے کا ہے، ہم ان واقعات کی کوریج کے ساتھ ان چیزوں کا تجزیہ بھی کرتے ہیں، ہمارا طریقہ جائز اور متوازن ہوتا ہے۔"

لیکن واقعہ یہ ہے کہ جب ہم غزہ کی چینل فور سے کوریج دیکھتے ہیں تو پانسہ ہی پلٹ جاتا ہے۔ اس کے ترجمان کا کہنا ہے اس کے ذریعے سامنے آنے والی غزہ کی تصاویر کو بہت سراہا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں